تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
جس امر پر قسم کھائی گئی ہے، وہ ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے علم میں ضلالت سے اور اپنے قصد میں گمراہی سے منزہ اور پاک ہونا۔ اور اس سے یہ لازم آتا ہے کہ آپ اپنے علم میں راست رو، راہ راست کی طرف راہنمائی کرنے والے، حسن قصد رکھنے والے اور مخلوق کی خیر خواہی کرنے والے ہیں۔ اس کے برعکس فساد علم اور سوء قصد کا راستہ وہ ہے، جس پر گمراہ لوگ گامزن ہیں۔
اور فرمایا:﴿ صَاحِبُكُمْ﴾” تمھارا ساتھی“ تاکہ اللہ تبارک و تعالیٰ تمھارے ساتھی کے ان اوصاف کی طرف اشارہ کرے جن کا وہ آپ کے اندر موجود ہونے کا اعتراف کرتے ہیں، مثلاً: صدق اور ہدایت، نیز یہ کہ آپ کا معاملہ ان پر مخفی نہیں ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
والمقسم عليه تنزيه الرسول [- صلى الله عليه وسلم -] عن الضَّلال في علمه والغيِّ في قصده، ويلزم من ذلك أن يكون مهتدياً في علمه هادياً حسنَ القصدِ ناصحاً للخلق ، بعكس ما عليه أهل الضَّلال من فساد العلم وسوء القصد، وقال: {صاحبُكم}؛ لينبههم على ما يعرفونه منه من الصِّدق والهداية، وأنَّه لا يخفى عليهم أمره.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔