تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الطور (52) — آیت 7

اِنَّ عَذَابَ رَبِّکَ لَوَاقِعٌ ۙ﴿۷﴾
کہ یقینا تیرے رب کا عذاب ضرور واقع ہونے والا ہے ۔ En
کہ تمہارے پروردگار کا عذاب واقع ہو کر رہے گا
En
بیشک آپ کے رب کا عذاب ہو کر رہنے واﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ اشیاء جن کی اللہ تبارک و تعالیٰ نے قسم کھائی ہے دلالت کرتی ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں، اس کی توحید کے دلائل، اس کی قدرت اور حیات بعد الموت کے براہین ہیں۔ بنابریں فرمایا: ﴿ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌ یعنی تیرے رب کے عذاب کا واقع ہونا لازمی ہے، اللہ تعالیٰ اپنے قول اور وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

هذه الأشياء التي أقسم الله بها ممَّا يدلُّ على أنَّها من آيات الله وأدلَّة توحيده وبراهين قدرته وبعثه الأموات، ولهذا قال: {إنَّ عذابَ ربِّك لواقعٌ}؛ أي: لابدَّ أن يقع، ولا يخلفُ اللهُ وعده وقيله.