تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الطور (52) — آیت 36

اَمۡ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ ۚ بَلۡ لَّا یُوۡقِنُوۡنَ ﴿ؕ۳۶﴾
یا انھوں نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا ہے؟ بلکہ وہ یقین نہیں کرتے۔ En
یا انہوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے؟ (نہیں) بلکہ یہ یقین ہی نہیں رکھتے
En
کیا انہوں نے ہی آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے؟ بلکہ یہ یقین نہ کرنے والے لوگ ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اَمْ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ یا انھوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے؟ یہ ایسا استفہام ہے جو نفی کے اثبات پر دلالت کرتا ہے۔ یعنی انھوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا نہیں کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے شریک بن جائیں، یہ حقیقت بالکل واضح ہے لیکن تکذیب کرنے والے﴿ بَلْ لَّا یُوْقِنُوْنَ یقین نہ کرنے والے لوگ ہیں، یعنی یہ جھٹلانے والے علمِ کامل سے محروم ہیں جو ان کے لیے دلائل شرعی و عقلی سے استفادے کا موجب ہوتا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وقوله: {أم خَلَقوا السمواتِ والأرضَ}: وهذا استفهامٌ يدلُّ على تقرير النفي؛ أي: ما خلقوا السماواتِ والأرضَ، فيكونوا شركاء لله، وهذا أمرٌ واضحٌ جدًّا. {بل} المكذبونَ {لا يوقنونَ}؛ أي: ليس عندهم [علم تامٌّ و] يقينٌ يوجب لهم الانتفاع بالأدلَّة الشرعيَّة والعقليَّة.