تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الطور (52) — آیت 33

اَمۡ یَقُوۡلُوۡنَ تَقَوَّلَہٗ ۚ بَلۡ لَّا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿ۚ۳۳﴾
یا وہ کہتے ہیں کہ اس نے یہ خود گھڑ لیا ہے؟ بلکہ وہ ایمان نہیں لاتے۔ En
کیا (کفار) کہتے ہیں کہ ان پیغمبر نے قرآن از خود بنا لیا ہے بات یہ ہے کہ یہ (خدا پر) ایمان نہیں رکھتے
En
کیا یہ کہتے ہیں کہ اس نبی نے (قرآن) خود گھڑ لیا ہے، واقعہ یہ ہے کہ وه ایمان نہیں ﻻتے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اَمْ یَقُوْلُوْنَ تَقَوَّ٘لَهٗ کیا وہ کہتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی یہ (قرآن)گھڑ لیا ہے اور اسے خود اپنی طرف سے کہا ہے؟ ﴿ بَلْ لَّا یُؤْمِنُوْنَ بلکہ وہ ایمان نہیں رکھتے۔ پس اگر وہ ایمان لائے ہوتے تو وہ اس طرح کی باتیں نہ کہتے جو انھوں نے کہی ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{أم يقولون تَقَوَّلَه}؛ أي: تقوَّل محمدٌ القرآن وقاله من تلقاء نفسه، {بل لا يؤمنونَ}؛ فلو آمنوا؛ لم يقولوا ما قالوا.