تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ اَمْیَقُوْلُوْنَتَقَوَّ٘لَهٗ﴾ کیا وہ کہتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی یہ (قرآن)گھڑ لیا ہے اور اسے خود اپنی طرف سے کہا ہے؟ ﴿ بَلْلَّایُؤْمِنُوْنَ﴾”بلکہ وہ ایمان نہیں رکھتے۔“ پس اگر وہ ایمان لائے ہوتے تو وہ اس طرح کی باتیں نہ کہتے جو انھوں نے کہی ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{أم يقولون تَقَوَّلَه}؛ أي: تقوَّل محمدٌ القرآن وقاله من تلقاء نفسه، {بل لا يؤمنونَ}؛ فلو آمنوا؛ لم يقولوا ما قالوا.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔