تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الطور (52) — آیت 28

اِنَّا کُنَّا مِنۡ قَبۡلُ نَدۡعُوۡہُ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ الۡبَرُّ الرَّحِیۡمُ ﴿٪۲۸﴾
بے شک ہم اس سے پہلے ہی اسے پکارا کرتے تھے، بے شک وہی تو بہت احسان کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ En
اس سے پہلے ہم اس سے دعائیں کیا کرتے تھے۔ بےشک وہ احسان کرنے والا مہربان ہے
En
ہم اس سے پہلے ہی اس کی عبادت کیا کرتے تھے، بیشک وه محسن اور مہربان ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلُ نَدْعُوْهُ بے شک اس سے پہلے ہم اس سے دعائیں کیا کرتے تھے۔ کہ وہ ہمیں عذاب سموم سے بچائے اور نعمتوں بھری جنت میں پہنچائے۔یہ جملہ دعائے عبادت اور دعائے مسئلہ دونوں کو شامل ہے۔ یعنی ہم مختلف عبادات کے ذریعے سے اس کا تقرب حاصل کرنے کی کوشش کرتے اور تمام اوقات میں اس کو پکارتے ہیں۔ ﴿ اِنَّهٗ هُوَ الْـبَرُّ الرَّحِیْمُ پس ہم پر اس کا احسان اور رحمت ہے کہ اس نے ہمیں اپنی رضا اور جنت سے بہرہ ور کیا اور اپنی ناراضی اور جہنم کے عذاب سے بچایا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{إنَّا كنَّا من قبلُ ندعوه}: أن يَقِيَنا عذابَ السَّموم، ويوصِلَنا إلى النعيم، وهذا شاملٌ لدعاء العبادة ودعاء المسألة؛ أي: لم نزل نتقرَّب إليه بأنواع العبادات ، وندعوه في سائر الأوقات. {إنَّه هو البرُّ الرحيم}: فمن برِّه [بنا] ورحمته إيَّانا أنالَنا رضاه والجنة، ووقانا سخطه والنار.