تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الطور (52) — آیت 1

وَ الطُّوۡرِ ۙ﴿۱﴾
قسم ہے طور کی! En
(کوہ) طور کی قسم
En
قسم ہے طور کی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالی جلیل القدر حکمتوں پر مشتمل عظیم امور کے ساتھ حیات بعد الموت اور متقین اور مکذبین کی جزا و سزا پر۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے کوہ طور کی قسم کھائی، طور وہ پہاڑ ہے جہاں اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ہم کلام ہوا اور اس نے ان کی طرف وحی بھیجی اور ان پر احکام شریعت نازل فرمائے، یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور آپ کی امت پر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے، جو اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیاں اور اس کی نعمتیں ہیں، بندے جن کو شمار کر سکتے ہیں نہ ان کی قیمت کا اندازہ کر سکتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقسم تعالى بهذه الأمور العظيمة المشتملة على الحِكَم الجليلة على البعث والجزاء للمتَّقين وللمكذِّبين ، فأقسم بالطور، وهو الجبلُ الذي كلَّم الله عليه موسى بن عمران عليه الصلاة والسلام، وأوحى إليه ما أوحى من الأحكام، وفي ذلك من المنَّة عليه وعلى أمَّته ما هو من آيات الله العظيمة ونعمه التي لا يَقْدِرُ العباد لها على عدٍّ ولا ثمن.