تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الذاريات (51) — آیت 56

وَ مَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَ الۡاِنۡسَ اِلَّا لِیَعۡبُدُوۡنِ ﴿۵۶﴾
اور میں نے جنوں اور انسانوں کو پیدا نہیں کیا مگر اس لیے کہ وہ میری عبادت کریں۔ En
اور میں نے جنوں اور انسانوں کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ میری عبادت کریں
En
میں نے جنات اورانسانوں کو محض اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وه صرف میری عبادت کریں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

وہ مقصد جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے جنات اور انسانوں کو تخلیق فرمایا، تمام انبیاء و رسل کو مبعوث کیا جو لوگوں کو اس مقصد کی طرف بلاتے رہے، اور وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے جو اس کی معرفت، اس کی محبت، اس کی طرف انابت اور ماسوا سے منہ موڑ کر صرف اسی کی طرف توجہ کرنے کو متضمن ہے۔ اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کی معرفت سے وابستہ ہے۔ بلکہ بندے میں اپنے رب کی معرفت جتنی زیادہ ہو گی اس کی عبادت اتنی ہی کامل ہو گی۔ یہ وہ مقصد ہے جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے مکلفین کو پیدا کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس لیے پیدا نہیں کیا کہ اسے ان سے کوئی ضرورت تھی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

هذه الغاية التي خَلَقَ الله الجنَّ والإنس لها، وبعث جميعَ الرسل يدعون إليها، وهي عبادتُه المتضمِّنة لمعرفته ومحبَّته والإنابة إليه والإقبال عليه والإعراض عما سواه، وذلك متوقِّف على معرفة الله تعالى ؛ فإنَّ تمام العبادة متوقِّف على المعرفةِ بالله ، بل كلَّما ازداد العبد معرفةً بربِّه ؛ كانت عبادته أكمل؛ فهذا الذي خلق الله المكلَّفين لأجله؛ فما خَلَقَهم لحاجة منه إليهم.