تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الذاريات (51) — آیت 46

وَ قَوۡمَ نُوۡحٍ مِّنۡ قَبۡلُ ؕ اِنَّہُمۡ کَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِیۡنَ ﴿٪۴۶﴾
اور اس سے پہلے نوح کی قوم کو، یقینا وہ نافرمان لوگ تھے۔ En
اور اس سے پہلے (ہم) نوح کی قوم کو (ہلاک کرچکے تھے) بےشک وہ نافرمان لوگ تھے
En
اور نوح (علیہ السلام) کی قوم کا بھی اس سے پہلے (یہی حال ہو چکا تھا) وه بھی بڑے نافرمان لوگ تھے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی اللہ تعالیٰ نے قوم نوح کے ساتھ بھی یہی کیا، جب انھوں نے حضرت نوح علیہ السلام کو جھٹلایا اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر آسمان سے اور زمین سے بے پناہ سیلاب بھیجا، جس نے ان کے آخری آدمی تک کو غرق کر دیا اور کافروں کا ایک بھی بستا ہوا گھر باقی نہ چھوڑا۔ یہ ان لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی عادت اور سنت ہے جو اس کی نافرمانی کرتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: وكذلك ما فعل الله بقوم نوح حين كذَّبوا نوحاً عليه السلام وفَسَقوا عن أمِر الله، فأرسل الله عليهم السماء والأرض بماءٍ منهمرٍ ، فأغرقهم عن آخرهم، ولم يُبْقِ من الكافرين ديَّاراً. وهذه عادة الله وسنَّتُه فيمَن عصاه.