تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الذاريات (51) — آیت 20

وَ فِی الۡاَرۡضِ اٰیٰتٌ لِّلۡمُوۡقِنِیۡنَ ﴿ۙ۲۰﴾
اور زمین میں یقین کرنے والوں کے لیے کئی نشانیاں ہیں۔ En
اور یقین کرنے والوں کے لئے زمین میں (بہت سی) نشانیاں ہیں
En
اور یقین والوں کے لئے تو زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو تفکر و تدبر اور عبرت حاصل کرنے کی دعوت دیتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ وَفِی الْاَرْضِ اٰیٰتٌ لِّلْمُوْقِنِیْنَ اور یقین کرنے والوں کے لیے زمین میں نشانیاں ہیں۔ یہ آیت کریمہ زمین اور اس کی موجودات کو شامل ہے، مثلاً: پہاڑ، سمندر، دریا، درخت اور نباتات جو غور و فکر کرنے والے اور اس کے معانی میں تدبر کرنے والے کو اپنے خالق کی عظمت، اس کی وسیع طاقت، اس کے احسان عام اور ظاہر و باطن پر اس کے علم کے محیط ہونے کی طرف راہ نمائی کرتی ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى داعياً عباده إلى التفكُّر والاعتبار: {وفي الأرضِ آياتٌ للموقِنينَ}: وذلك شاملٌ لنفس الأرض وما فيها من جبال وبحارٍ وأنهارٍ وأشجارٍ ونباتٍ تدلُّ المتفكِّر فيها، المتأمِّل لمعانيها على عظمة خالقها وسعة سلطانه وعميم إحسانه وإحاطة علمه بالظواهر والبواطن.