تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو تفکر و تدبر اور عبرت حاصل کرنے کی دعوت دیتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ وَفِیالْاَرْضِاٰیٰتٌلِّلْمُوْقِنِیْنَ﴾”اور یقین کرنے والوں کے لیے زمین میں نشانیاں ہیں۔“ یہ آیت کریمہ زمین اور اس کی موجودات کو شامل ہے، مثلاً: پہاڑ، سمندر، دریا، درخت اور نباتات جو غور و فکر کرنے والے اور اس کے معانی میں تدبر کرنے والے کو اپنے خالق کی عظمت، اس کی وسیع طاقت، اس کے احسان عام اور ظاہر و باطن پر اس کے علم کے محیط ہونے کی طرف راہ نمائی کرتی ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى داعياً عباده إلى التفكُّر والاعتبار: {وفي الأرضِ آياتٌ للموقِنينَ}: وذلك شاملٌ لنفس الأرض وما فيها من جبال وبحارٍ وأنهارٍ وأشجارٍ ونباتٍ تدلُّ المتفكِّر فيها، المتأمِّل لمعانيها على عظمة خالقها وسعة سلطانه وعميم إحسانه وإحاطة علمه بالظواهر والبواطن.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔