تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الذاريات (51) — آیت 18

وَ بِالۡاَسۡحَارِ ہُمۡ یَسۡتَغۡفِرُوۡنَ ﴿۱۸﴾
اور رات کی آخری گھڑیوں میں وہ بخشش مانگتے تھے۔ En
اور اوقات سحر میں بخشش مانگا کرتے تھے
En
اور وقت سحر استغفار کیا کرتے تھے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَبِالْاَسْحَارِ طلوع فجر سے تھوڑا سا پہلے ﴿ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ۠ وہ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتے ہیں۔ وہ اپنی نماز کو طلوع سحر کے وقت تک لمبا کرتے ہیں، پھر قیام لیل کے بعد بیٹھ کر اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی بخشش طلب کرتے ہیں۔ سحر کے وقت استغفار میں ایسی فضیلت اور خاصیت ہے جو کسی اور وقت استغفار کرنے میں نہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان و اطاعت کے وصف میں فرمایا: ﴿ وَالْ٘مُسْتَغْفِرِیْنَ بِالْاَسْحَارِ (آل عمران:3؍17) اوقات ِسحر میں استغفار کرنے والے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وبالأسحار}: التي هي قبيل الفجر، {هم يستغفرونَ}: الله تعالى، فمدُّوا صلاتهم إلى السحر، ثم جلسوا في خاتمة قيامهم بالليل يستغفرون الله تعالى استغفار المذنبِ لذنبه. وللاستغفار بالأسحار فضيلةٌ وخصيصةٌ ليست لغيره؛ كما قال تعالى في وصف أهل الإيمان والطاعة: {والمستغفرين بالأسحار}.