تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
ان کے حال اور برے ٹھکانے کے بارے میں مت پوچھ ﴿ یَوْمَهُمْعَلَىالنَّارِیُفْتَنُوْنَ﴾”ہاں یہ وہ دن ہے کہ یہ آگ پر الٹے سیدھے پڑیں گے۔“ یعنی جس دن انھیں ان کے خبث باطن اور خبث ظاہر کے سبب سے ان کو عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا: ﴿ ذُوْقُوْافِتْنَتَكُمْ﴾ آگ اور عذاب کا مزا چکھو یہ اس فتنے کے اثرات ہیں جس میں وہ مبتلا ہوئے، جس نے انھیں کفر اور گمراہی میں دھکیل دیا تھا۔ ﴿ هٰؔذَا﴾ یہ عذاب جس میں تم ڈال دیے گئے ہو ﴿ الَّذِیْكُنْتُمْبِهٖتَسْتَعْجِلُوْنَ۠﴾”وہی ہے جس کے لیے تم جلدی مچایا کرتے تھے۔“ پس اب مختلف انواع کی عقوبتوں، سزاؤ ں، زنجیروں، بیڑیوں، اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور عذاب کا مزہ چکھو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فلا تسألْ عن حالهم وسوء مآلهم! {يوم هم على النار يُفتنون}؛ أي: يعذَّبون بسبب ما انطووا عليه من خبث الباطن والظاهر، ويُقالُ لهم: {ذوقوا فتنتكم}؛ أي: العذاب والنار، الذي هو أثر ما افتتنوا به من الابتلاء، الذي صيَّرهم إلى الكفر والضلال. {هذا}: العذابُ الذي وصلتم إليه هو {الذي كنتُم به تستعجلونَ}: فالآن تمتَّعوا بأنواع العقاب والنَّكال، والسلاسل والأغلال، والسخط والوَبال.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔