تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ ق (50) — آیت 39

فَاصۡبِرۡ عَلٰی مَا یَقُوۡلُوۡنَ وَ سَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّکَ قَبۡلَ طُلُوۡعِ الشَّمۡسِ وَ قَبۡلَ الۡغُرُوۡبِ ﴿ۚ۳۹﴾
سو اس پر صبر کر جو وہ کہتے ہیں اور سورج طلوع ہونے سے پہلے اور غروب ہونے سے پہلے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر۔ En
تو جو کچھ یہ (کفار) بکتے ہیں اس پر صبر کرو اور آفتاب کے طلوع ہونے سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے رہو
En
پس یہ جو کچھ کہتے ہیں آپ اس پر صبر کریں اور اپنے رب کی تسبیح تعریف کے ساتھ بیان کریں سورج نکلنے سے پہلے بھی اور سورج غروب ہونے سے پہلے بھی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ فَاصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ پس جو کچھ یہ کہتے ہیں، اس پر صبر کیجیے۔ وہ آپ کی مذمت کرتے ہیں اور آپ جو کتاب لے کر آئے ہیں اس کی تکذیب کرتے ہیں، آپ ان کو نظر انداز کر کے اپنے رب کی اطاعت کیجیے اور صبح، شام، رات کے اوقات میں اور نمازوں کے بعد اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کیجیے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ذکر نفس کو تسلی دیتا، اس کو سکون عطا کرتا اور صبر کو آسان بناتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فاصبرْ على ما يقولونَ}: من الذمِّ لك والتكذيب بما جئتَ به، واشتغلْ عنهم والْه بطاعة ربِّك وتسبيحه أول النهار وآخره وفي أوقات الليل وأدبار الصلوات؛ فإن ذِكْرَ الله تعالى مسلٍّ للنفس مؤنسٌ لها مهوِّنٌ للصبر.