تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ ق (50) — آیت 25

مَّنَّاعٍ لِّلۡخَیۡرِ مُعۡتَدٍ مُّرِیۡبِۣ ﴿ۙ۲۵﴾
جو خیر کو بہت روکنے والا، حد سے گزرنے والا، شک کرنے والا ہے۔ En
جو مال میں بخل کرنے والا حد سے بڑھنے والا شبہے نکالنے والا تھا
En
جو نیک کام سے روکنے واﻻ حد سے گزر جانے واﻻ اور شک کرنے واﻻ تھا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ بھلائی سے روکنے والا۔ اس کے پاس جو بھلائی موجود ہے وہ اسے روکتا ہے، جس میں سے سب سے بڑی بھلائی اللہ تعالیٰ اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان ہے اور وہ اپنے مال اور بدن کے فائدے کو (لوگوں تک پہنچنے سے) روکتا ہے ﴿مُعْتَدٍ اللہ تعالیٰ کے بندوں پر زیادتی کرنے والا اور اس کی حدود سے تجاوز کرنے والا ہے ﴿مُّرِيْبِ اللہ تعالیٰ کے وعد ے اور وعید میں شک کرنے والا ہے۔ اس میں کوئی ایمان ہے نہ احسان، بلکہ اس کا وصف، کفر و عدوان، شک و ریب، بخل اور رحمان کو چھوڑ کر خود ساختہ معبودوں کی عبادت کرنا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{منَّاع للخيرِ}؛ أي: يمنع الخير الذي قِبَله ، الذي أعظمه الإيمان بالله وملائكته وكتبه ورسله، منَّاع لنفع ماله وبدنه، {معتدٍ}: على عباد الله وعلى حدوده، أثيم، أي: كثير الإثم، {مريبٍ}؛ أي: شاكٍّ في وعد الله ووعيده؛ فلا إيمان ولا إحسان، ولكن وصفه الكفر والعدوان والشكُّ والريب والشحُّ واتِّخاذُ الآلهة من دون الرحمن.