تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿مَاعَلَىالرَّسُوْلِاِلَّاالْ٘بَلٰ٘غُ٘﴾”رسول کے ذمے صرف پہنچا دینا ہے“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جیسے حکم دیا گیا، آپ نے پہنچا دیا۔ آپ نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی اور اس کے سوا دیگر معاملات میں آپ کو کوئی اختیار نہیں ﴿ وَاللّٰهُیَعْلَمُمَاتُبْدُوْنَوَمَاتَكْ٘تُمُوْنَ﴾”اور اللہ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے اور جو تم چھپاتے ہو“ اور اللہ تعالیٰ تمھارے اعمال کی اپنے علم کے مطابق جزا دے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم قال تعالى: {ما على الرَّسول إلَّا البلاغُ}: وقد بَلَّغَ كما أمر وقام بوظيفتِهِ وما سوى ذلك؛ فليس له من الأمر شيءٌ. {واللهُ يعلمُ ما تُبدون وما تكتُمون}: فيُجازيكم بما يعلمُهُ تعالى منكم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔