تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المائده (5) — آیت 99

مَا عَلَی الرَّسُوۡلِ اِلَّا الۡبَلٰغُ ؕ وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ مَا تُبۡدُوۡنَ وَ مَا تَکۡتُمُوۡنَ ﴿۹۹﴾
رسول پر پہنچا دینے کے سوا کچھ نہیں اور اللہ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو چھپاتے ہو۔ En
پیغمبر کے ذمے تو صرف پیغام خدا کا پہنچا دینا ہے اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ مخفی کرتے ہو خدا کو سب معلوم ہے
En
رسول کے ذمہ تو صرف پہنچانا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ سب جانتا ہے جو کچھ تم ﻇاہر کرتے ہو اور جو کچھ پوشیده رکھتے ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْ٘بَلٰ٘غُ٘ رسول کے ذمے صرف پہنچا دینا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جیسے حکم دیا گیا، آپ نے پہنچا دیا۔ آپ نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی اور اس کے سوا دیگر معاملات میں آپ کو کوئی اختیار نہیں ﴿ وَاللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَمَا تَكْ٘تُمُوْنَ اور اللہ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے اور جو تم چھپاتے ہو اور اللہ تعالیٰ تمھارے اعمال کی اپنے علم کے مطابق جزا دے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم قال تعالى: {ما على الرَّسول إلَّا البلاغُ}: وقد بَلَّغَ كما أمر وقام بوظيفتِهِ وما سوى ذلك؛ فليس له من الأمر شيءٌ. {واللهُ يعلمُ ما تُبدون وما تكتُمون}: فيُجازيكم بما يعلمُهُ تعالى منكم.