تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المائده (5) — آیت 87

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُحَرِّمُوۡا طَیِّبٰتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰہُ لَکُمۡ وَ لَا تَعۡتَدُوۡا ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الۡمُعۡتَدِیۡنَ ﴿۸۷﴾
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! وہ پاکیزہ چیزیں حرام مت ٹھہرائو جو اللہ نے تمھارے لیے حلال کی ہیں اور حد سے نہ بڑھو، بے شک اللہ حد سے بڑھنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔ En
مومنو! جو پاکیزہ چیزیں خدا نے تمہارے لیے حلال کی ہیں ان کو حرام نہ کرو اور حد سے نہ بڑھو کہ خدا حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں رکھتا
En
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ نے جو پاکیزه چیزیں تمہارے واسطے حلال کی ہیں ان کو حرام مت کرو اور حد سے آگے مت نکلو، بےشک اللہ تعالیٰ حد سے نکلنے والوں کو پسند نہیں کرتا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَیِّبٰؔتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمْ اے ایمان والو! جن پاکیزہ چیزوں کو اللہ نے تمھارے لیے حلال کیا ہے، تم انھیں حرام مت کرو یعنی اللہ تعالیٰ نے ماکولات و مشروبات میں جو چیزیں حلال ٹھہرا رکھی ہیں، انھیں حرام نہ ٹھہراؤ۔ کیونکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں جو اس نے تمھیں عطا کی ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرو کیونکہ اس نے تمھارے لیے ان نعمتوں کو حلال ٹھہرایا اور اس کا شکر ادا کرو۔ کفران نعمت، عدم قبول اور ان کی تحریم کا اعتقاد رکھتے ہوئے ان نعمتوں کو نہ ٹھکراؤ۔ ورنہ تم اللہ تعالیٰ پر افترا پردازی، کفران نعمت اور حلال کو حرام اور ناپاک قرار دینے کے مرتکب ٹھہرو گے… اور یہ حد سے تجاوز ہے اور اللہ تعالیٰ نے حد سے بڑھنے سے منع فرمایا ہے ﴿ وَلَا تَعْتَدُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ اور حد سے نہ بڑھو، اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتا بلکہ ان سے ناراض ہو تا ہے اور اس پر ان کو سزا دے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى: {يا أيُّها الذين آمنوا لا تحرِّموا طيبِّات ما أحلَّ الله لكم}: من المطاعم والمشارب؛ فإنَّها نِعَمٌ أنعم الله بها عليكم؛ فاحْمَدوه إذ أحلَّها لكم واشكُروه، ولا تَرُدُّوا نعمته بكفرها، أو عدم قبولها، أو اعتقاد تحريمها، فتجمعون بذلك بين القولِ على اللهِ الكذبَ وكفر النعمة، واعتقاد الحلال الطيِّب حراماً خبيثاً؛ فإنَّ هذا من الاعتداء، والله قد نهى عن الاعتداء، فقال: {ولا تعتدوا إنَّ الله لا يحبُّ المعتدينَ}، بل يُبْغِضُهم ويمقُتُهم، ويعاقِبُهم على ذلك.