تو اللہ نے اس کے بدلے میں جو انھوں نے کہا، انھیں ایسے باغات دیے جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، ان میں ہمیشہ رہنے والے اور یہی نیکی کرنے والوں کی جزا ہے۔
En
تو خدا نے ان کو اس کہنے کے عوض (بہشت کے) باغ عطا فرمائے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے اور نیکو کاروں کا یہی صلہ ہے
اس لئے ان کو اللہ تعالیٰ ان کے اس قول کی وجہ سے ایسے باغ دے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، یہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور نیک لوگوں کا یہی بدلہ ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَاَثَابَهُمُاللّٰهُبِمَاقَالُوْا ﴾”پس اللہ نے ان کو ان کے کہنے پر بدلہ دیا“ یعنی انھوں نے ایمان لانے کی بات کی، نطق زبان سے ایمان کا اقرار کیا اور حق کی تصدیق کی ﴿ جَنّٰتٍتَجْرِیْمِنْتَحْتِهَاالْاَنْ٘هٰرُخٰؔلِدِیْنَفِیْهَا١ؕوَذٰلِكَجَزَآءُالْمُحْسِنِیْنَ﴾”باغات کا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ بدلہ ہے نیکو کاروں کا۔“یہ آیات کریمہ ان عیسائیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئے تھے۔، مثلاً: نجاشی اور دیگر ایمان لانے والے عیسائی۔ اسی طرح ان کے اندر ایسے لوگ پائے جاتے رہیں گے جو دین اسلام کو اختیار کریں گے اور ان پر اپنے دین کا بطلان واضح ہوتا رہے گا۔ یہ لوگ یہودیوں اور مشرکین سے اسلام کے زیادہ قریب ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
قال الله تعالى: {فأثابهم اللهُ بما قالوا}؛ أي: بما تفوَّهوا به من الإيمان ونَطَقوا به من التصديق بالحقِّ {جناتٍ تجري من تحتها الأنهارُ خالدين فيها، وذلك جزاء المحسنينَ}. وهذه الآيات نزلت في النصارى الذين آمنوا بمحمدٍ - صلى الله عليه وسلم - كالنجاشيِّ وغيره ممَّن آمن منهم، وكذلك لا يزال يوجد فيهم من يختارُ دينَ الإسلام، ويتبيَّن له بطلان ما كانوا عليه وهم أقربُ من اليهود والمشركين إلى دين الإسلام.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔