تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المائده (5) — آیت 40

اَلَمۡ تَعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰہَ لَہٗ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ یُعَذِّبُ مَنۡ یَّشَآءُ وَ یَغۡفِرُ لِمَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۴۰﴾
کیا تو نے نہیں جانا کہ اللہ ہی ہے جس کے پاس آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے، عذاب دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور بخش دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔ En
کیا تم کو معلوم نہیں کہ آسمانوں اور زمین میں خدا ہی کی سلطنت ہے؟ جس کو چاہے عذاب کرے اور جسے چاہے بخش دے اور خدا ہر چیز پر قادر ہے
En
کیا تجھے معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی کے لئے زمین و آسمان کی بادشاہت ہے؟ جسے چاہے سزا دے اور جسے چاہے معاف کردے، اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اور یہ اس بنا پر ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کے اقتدار کا مالک ہے وہ جیسے چاہتا ہے زمین اور آسمان میں تکوینی اور شرعی تصرف کرتا ہے اور اپنی حکمت، بے پایاں رحمت اور مغفرت کے تقاضے کے مطابق وہ بخشتا ہے یا سزا دیتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وذلك أنَّ الله له ملك السماوات والأرض؛ يتصرَّف فيهما بما شاء من التصاريف القدريَّة والشرعيَّة والمغفرة والعقوبة؛ بحسب ما اقتضتْه حكمتُهُ ورحمتُهُ الواسعة ومغفرته.