ان لوگوں کی جزا جو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں اور زمین میں فساد کی کوشش کرتے ہیں، یہی ہے کہ انھیں بری طرح قتل کیا جائے، یا انھیں بری طرح سولی دی جائے، یا ان کے ہاتھ اور پائوں مختلف سمتوں سے بری طرح کاٹے جائیں، یا انھیں اس سر زمین سے نکال دیا جائے۔ یہ ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کے لیے آخرت میں بہت بڑا عذاب ہے۔
En
جو لوگ خدا اور اس کے رسول سے لڑائی کریں اور ملک میں فساد کرنے کو دوڑتے پھریں ان کی یہی سزا ہے کہ قتل کر دیئے جائیں یا سولی چڑھا دیئے جائیں یا ان کے ایک ایک طرف کے ہاتھ اور ایک ایک طرف کے پاؤں کاٹ دیئے جائیں یا ملک سے نکال دیئے جائیں یہ تو دنیا میں ان کی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا (بھاری) عذاب تیار ہے
جو اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول سے لڑیں اور زمین میں فساد کرتے پھریں ان کی سزا یہی ہے کہ وه قتل کر دیئے جائیں یا سولی چڑھا دیئے جائیں یا مخالف جانب سے ان کے ہاتھ پاوں کاٹ دیئے جائیں، یا انہیں جلاوطن کر دیا جائے، یہ تو ہوئی ان کی دنیوی ذلت اور خواری، اور آخرت میں ان کے لئے بڑا بھاری عذاب ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محاربت کے مرتکب وہ لوگ ہیں جو اس کے ساتھ عداوت ظاہر کرتے ہیں اور قتل و غارت، کفر، لوٹ مار اور شاہراہوں کو غیر محفوظ بنانے کا ارتکاب کرتے ہیں۔
مشہور یہ ہے کہ یہ آیت کریمہ ان راہزنوں اور ڈاکوؤں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو بستیوں اور دیہات میں لوگوں پر حملے کر کے ان کا مال لوٹتے ہیں، ان کو قتل کرتے ہیں اور دہشت پھیلاتے ہیں۔ بنابریں لوگ ان شاہراہوں پر سفر کرنا بند کر دیتے ہیں پس اس وجہ سے راستے منقطع ہو جاتے ہیں۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ حد نافذ کرتے وقت ان لوگوں کی سزا، ان سزاؤں میں سے ایک ہے جو اس آیت کریمہ میں مذکور ہیں۔ اصحاب تفسیر میں اس بارے میں اختلاف ہے کہ آیا ان سزاؤں میں اختیار ہے اور امام یا اس کا نائب ہر راہزن کو اپنی صواب دید اور مصلحت کے مطابق ان مذکورہ سزاؤں میں سے کوئی سزا دے سکتا ہے۔ آیت کریمہ کے الفاظ سے یہی ظاہر ہوتا ہے۔ یا ان کی سزا ان کے جرم کے مطابق دی جائے گی اور ہر جرم کے مقابلے میں ایک سزا ہے جیسا کہ آیت کریمہ اس پر دلالت کرتی ہے اور اس آیت کریمہ کا حکم اللہ تعالیٰ کی حکمت کے مطابق ہے، یعنی اگر وہ قتل اور لوٹ مار کا ارتکاب کریں تو ان کو قتل کرنے اور سولی دینے کی سزا حتمی ہے۔ یہاں تک کہ ان کا سولی دیا جانا مشہور ہو جائے اور دوسرے لوگ لوٹ مار اور راہزنی سے باز آجائیں۔ اگر وہ لوگوں کو قتل کریں اور مال نہ لوٹیں تو ان کو صرف قتل کیا جائے۔ اگر وہ صرف مال لوٹیں اور لوگوں کو قتل کرنے سے باز رہیں تو مخالف سمت سے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے جائیں یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دیا جائے۔ اگر صرف لوگوں کو خوفزدہ کرنے اور دہشت پھیلانے کے مرتکب ہوئے ہوں اور انھوں نے کسی کا مال لوٹا ہو نہ کسی کو قتل کیا ہو تو ان کو جلاوطن کیا جائے گا اور ان کو کسی شہر میں پناہ نہیں لینے دی جائے گی یہاں تک کہ وہ توبہ کر لیں۔ یہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے اور بعض تفاصیل میں اختلاف کے باوجود بہت سے ائمہ نے اس قول کو اختیا رکیا ہے۔
﴿ ذٰلِكَ ﴾ یہ سزا ﴿ لَهُمْخِزْیٌفِیالدُّنْیَا ﴾”ان کے لیے دنیا میں فضیحت اور عار ہے“﴿ وَلَهُمْفِیالْاٰخِرَةِعَذَابٌعَظِیْمٌ ﴾”اور ان کے لیے آخرت میں بڑا عذاب ہے۔“ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ راہزنی بڑے گناہوں میں شمار ہوتی ہے جو دنیا و آخرت کی رسوائی اور فضیحت کی موجب ہے اور راہزنی کا مرتکب اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ کرتا ہے۔ جب یہ جرم اتنا بڑا ہے تو معلوم ہوا کہ مفسدین سے روئے زمین کی تطہیر کرنا، شاہراہوں کو قتل و غارت، لوٹ مار اور خوف و دہشت سے محفوظ کرنا، سب سے بڑی بھلائی اور سب سے بڑی نیکی ہے۔ نیز یہ زمین کے اندر اصلاح ہے جیسا کہ اس کی ضد فساد فی الارض ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
المحاربون لله ورسوله هم الذين بارزوه بالعداوة وأفسدوا في الأرض بالكُفر والقتل وأخذ الأموال وإخافة السبل، والمشهور أنَّ هذه الآية الكريمة في أحكام قُطَّاع الطريق الذين يعرضون للناس في القرى والبوادي فيغصبونهم أموالَهم ويقتُلونهم ويخيفونهم، فيمتَنِع الناسُ من سلوك الطريق التي هم بها، فتنقَطِع بذلك. فأخبر الله أنَّ جزاءهم ونَكالهم عند إقامة الحدِّ عليهم أن يُفعلَ بهم واحدٌ من هذه الأمور.
واختلف المفسرون هل ذلك على التَّخيير، وأنَّ كلَّ قاطع طريقٍ يفعلُ به الإمامُ أو نائبُهُ ما رآه المصلحة من هذه الأمور المذكورة، وهذا ظاهر اللَّفظ، أو أنَّ عقوبتهم تكون بحسب جرائِمِهم؛ فكلُّ جريمة لها قسطٌ يقابِلها؛ كما تدلُّ عليه الآية بحكمتها وموافقتها لحكمة الله تعالى، وأنهم: إن قتلوا وأخذوا مالاً؛ تحتَّم قتلُهم وصلبُهم، حتى يشتهروا ويَخْتزوا ويرتدعَ غيرهم، وإن قتلوا ولم يأخذوا مالاً؛ تحتَّم قتلُهم فقط، وإن أخذوا مالاً ولم يَقْتُلوا؛ تحتَّم أن تُقْطَعَ أيديهم وأرجلهم من خلاف؛ اليد اليمنى، والرجل اليسرى، وإن أخافوا الناس، ولم يقتُلوا، ولا أخذوا مالاً؛ نُفوا من الأرض، فلا يُتْرَكون يأوون في بلد حتى تظهر توبتُهم. وهذا قول ابن عباس رضي الله عنه وكثير من الأئمة على اختلاف في بعض التفاصيل. {ذلك} النكال {لهم خزيٌ في الدُّنيا}؛ أي: فضيحة وعارٌ، {ولهم في الآخرة عذابٌ عظيم}: فدلَّ هذا أن قطع الطريق من أعظم الذنوب، موجب لفضيحة الدُّنيا وعذاب الآخرة، وأنَّ فاعله محاربٌ لله ولرسوله. وإذا كان هذا شأن عظم هذه الجريمة؛ عُلِمَ أنَّ تطهير الأرض من المفسدين وتأمين السبل والطرق عن القتل وأخذ الأموال وإخافة الناس من أعظم الحسنات وأجلِّ الطاعات، وأنَّه إصلاحٌ في الأرض؛ كما أن ضدَّه إفسادٌ في الأرض.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔