تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المائده (5) — آیت 28

لَئِنۡۢ بَسَطۡتَّ اِلَیَّ یَدَکَ لِتَقۡتُلَنِیۡ مَاۤ اَنَا بِبَاسِطٍ یَّدِیَ اِلَیۡکَ لِاَقۡتُلَکَ ۚ اِنِّیۡۤ اَخَافُ اللّٰہَ رَبَّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۲۸﴾
اگر تو نے اپنا ہاتھ میری طرف اس لیے بڑھایا کہ مجھے قتل کرے تو میں ہرگز اپنا ہاتھ تیری طرف اس لیے بڑھانے والا نہیں کہ تجھے قتل کروں، بے شک میںاللہ سے ڈرتا ہوں، جو سارے جہانوں کا رب ہے۔ En
اور اگر تو مجھے قتل کرنے کے لیے مجھ پر ہاتھ چلائے گا تو میں تجھ کو قتل کرنے کے لئے تجھ پر ہاتھ نہیں چلاؤں گا مجھے تو خدائے رب العالمین سے ڈر لگتا ہے
En
گو تو میرے قتل کے لئے دست درازی کرے لیکن میں تیرے قتل کی طرف ہرگز اپنے ہاتھ نہ بڑھاؤں گا، میں تو اللہ تعالیٰ پروردگار عالم سے خوف کھاتا ہوں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دیتے ہوئے بیان فرمایا کہ دوسرا بیٹا اسے قتل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا۔ نہ ابتدا میں اور نہ اپنی مدافعت میں۔ اس لیے اس نے کہا ﴿ لَىِٕنْۢ بَسَطْتَّ اِلَیَّ یَدَكَ لِتَقْتُلَنِیْ مَاۤ اَنَا بِبَاسِطٍ یَّدِیَ اِلَیْكَ لِاَقْتُلَكَ اگر تو ہاتھ چلائے گا مجھ پر تاکہ تو مجھے مارے تو میں اپنا ہاتھ تیری طرف نہیں چلاؤں گا کہ تجھے ماروں اور میرا یہ رویہ میری بزدلی یا میرے عجز کی وجہ سے نہیں یہ تو صرف اس وجہ سے ہے کہ ﴿ اِنِّی ْۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْ٘عٰلَمِیْنَ میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا گناہ کا اقدام نہیں کر سکتا، خاص طور پر کبیرہ گناہ کا۔
اس آیت کریمہ میں اس شخص کے لیے سخت تخویف ہے جو قتل کا ارادہ کرتا ہے اور تیرے لیے مناسب یہی ہے کہ تو اللہ کا تقویٰ اختیار کرے اور اس سے ڈرے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم قال له مخبراً أنَّه لا يريد أن يتعرَّض لقتلِهِ لا ابتداءً ولا مدافعةً، فقال: {لئن بَسَطْتَ إليَّ يَدَكَ لتقتلني ما أنا بباسطٍ يَدِيَ إليك لأقتُلَك}، وليس ذلك جُبْنًا منِّي ولا عجزاً، وإنَّما ذلك لأني {أخافُ الله ربَّ العالمين}، والخائف لله لا [يقدم] على الذُّنوب، خصوصاً الذنوب الكبار. وفي هذا تخويفٌ لمن يريد القتل، وأنَّه ينبغي لك أن تتقي الله وتخافه.