اس نے کہا اے میرے رب ! بیشک میں اپنی جان اور اپنے بھائی کے سوا کسی چیز کا مالک نہیں، سو تو ہمارے درمیان اور ان نافرمان لوگوں کے درمیان علیحدگی کر دے۔
En
موسیٰ نے (خدا سے) التجا کی کہ پروردگار میں اپنے اور اپنے بھائی کے سوا اور کسی پر اختیار نہیں رکھتا تو ہم میں اور ان نافرمان لوگوں میں جدائی کردے
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
جب موسیٰ علیہ السلام نے ان کی سرکشی دیکھی تو اللہ تعالیٰ سے عرض کیا ﴿ قَالَرَبِّاِنِّیْلَاۤاَمْلِكُاِلَّانَفْسِیْوَاَخِیْ ﴾”اے میرے رب! میرے اختیار میں تو میری جان اور میرا بھائی ہے“ یعنی لڑائی کے بارے میں ہمیں ان پر کوئی اختیار نہیں۔ اور میں ان پر کوئی جبر نہیں کر سکتا ﴿ فَافْرُقْبَیْنَنَاوَبَیْنَالْقَوْمِالْ٘فٰسِقِیْنَ ﴾”پس جدائی کر دے ہم میں اور اس نافرمان قوم میں “ یعنی ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ فرما دے بایں طور اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق ان پر عذاب نازل فرما۔ یہ بات دلالت کرتی ہے کہ ان کا قول و فعل کبیرہ گناہوں میں سے تھا جو فسق کے موجب ہوتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فلما رأى موسى عليه السلام عُتُوَّهم عليه؛ {قال ربِّ إني لا أملِكُ إلَّا نفسي وأخي}؛ أي: فلا يدان لنا بقتالهِم ولست بجبارٍ على هؤلاء، {فافْرُقْ بيننا وبين القوم الفاسقين}؛ أي: احكُم بيننا وبينَهم بأن تنزل فيهم من العقوبة ما اقتضته حكمتُك. ودلَّ ذلك على أنَّ قولهم وفعلهم من الكبائر العظيمة الموجبة للفسق.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔