اور یہود و نصاریٰ نے کہا ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں، کہہ دے پھر وہ تمھیں تمھارے گناہوں کی وجہ سے سزا کیوں دیتا ہے، بلکہ تم اس (مخلوق) میں سے ایک بشر ہو جو اس نے پیدا کی ہے، وہ جسے چاہتا ہے بخشتا ہے اور جسے چاہتا ہے سزا دیتا ہے اور اللہ ہی کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے اور اس کی بھی جو ان دونوں کے درمیان ہے اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
En
اور یہود اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہم خدا کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں کہو کہ پھر وہ تمہاری بداعمالیوں کے سبب تمھیں عذاب کیوں دیتا ہے (نہیں) بلکہ تم اس کی مخلوقات میں (دوسروں کی طرح کے) انسان ہو وہ جسے چاہے بخشے اور جسے چاہے عذاب دے اور آسمان زمین اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب پر خدا ہی کی حکومت ہے اور (سب کو) اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے
یہود و نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے دوست ہیں، آپ کہہ دیجیئے کہ پھر تمہیں تمہارے گناہوں کے باعﺚ اللہ کیوں سزا دیتا ہے؟ نہیں بلکہ تم بھی اس کی مخلوق میں سے ایک انسان ہو وه جسے چاہتا ہے بخش دیتا ہے، اور جسے چاہتا ہے عذاب کرتا ہے، زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے اور اسی کی طرف لوٹنا ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یہود و نصاریٰ کے دعاوی میں سے۔ جبکہ ان کے تمام دعوے باطل ہیں۔ ایک دعویٰ یہ ہے کہ وہ یہ کہتے ہوئے اپنے آپ کو پاک گردانتے ہیں ﴿ نَحْنُاَبْنٰٓؤُااللّٰهِوَاَحِبَّآؤُهٗ﴾”ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں “ ان کی لغت میں بیٹے سے مراد محبوب ہے وہ اس سے حقیقی ابنیت (بیٹا ہونا) مراد نہیں لیتے۔ کیونکہ یہ ان کا مذہب نہیں ہے سوائے حضرت مسیح کے بارے میں کہ عیسائی ان کو اللہ کا بیٹا کہتے ہیں۔ چونکہ ان کا دعویٰ دلیل و برہان سے محروم ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے فرمایا: ﴿قُ٘لْفَلِمَیُعَذِّبُؔكُمْبِذُنُوْبِكُمْ﴾”کہہ دیجیے، پھر وہ کیوں تمھیں تمھارے گناہوں کی پاداش میں عذاب دے گا؟“ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کے محبوب ہوتے تو وہ تمھیں کبھی عذاب نہ دیتا کیونکہ اللہ تعالیٰ صرف اسی کو محبوب بناتا ہے جو اس کی مرضی کو پورا کرتا ہے۔
﴿ بَلْاَنْتُمْبَشَرٌمِّمَّنْخَلَقَ﴾”بلکہ تم بھی ایک آدمی ہو، اس کی مخلوق میں سے“ تم پر بھی اللہ تعالیٰ کے عدل و فضل کے تمام احکام جاری ہوتے ہیں ﴿یَغْفِرُلِمَنْیَّشَآءُوَیُعَذِّبُمَنْیَّشَآءُ﴾”وہ جسے چاہے بخش دے اور جسے چاہے عذاب دے۔“ یعنی جب وہ مغفرت یا عذاب کے اسباب لے کر اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں تو اللہ ان اسباب کے مطابق ان کو بخش دیتا ہے یا عذاب میں مبتلا کرتا ہے۔ ﴿ وَلِلّٰهِمُلْكُالسَّمٰوٰتِوَالْاَرْضِوَمَابَیْنَهُمَا١ٞوَاِلَیْهِالْمَصِیْرُ﴾”اور اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہت آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔“ یعنی کس چیز نے تمھارے لیے اس فضیلت کو مختص کیا ہے جبکہ تم بھی اللہ تعالیٰ کے جملہ مملوکات میں شامل ہو اور تم بھی ان لوگوں میں شامل ہو جنھیں قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے پاس لوٹ کر جانا ہے۔ وہاں وہ تمھیں تمھارے اعمال کا بدلہ دے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ومن مقالات اليهود والنصارى أنَّ كلاًّ منهما ادَّعى دعوى باطلة يزكون بها أنفسهم؛ بأن قال كل منهما: {نحنُ أبناء الله وأحِبَّاؤه}، والابن في لغتهم هو الحبيب، ولم يريدوا البُنُوَّة الحقيقيَّة؛ فإنَّ هذا ليس من مذهبهم؛ إلاَّ مذهب النصارى في المسيح. قال الله رَدًّا عليهم حيث ادَّعوا بلا برهان: {قُلْ فلم يُعَذِّبُكُم بذُنوبكم}: فلو كُنتم أحبابه؛ ما عذَّبكم؛ لكون الله لا يحبُّ إلاَّ من قام بمراضيه. {بل أنتم بشرٌ ممَّنْ خَلَقَ}: تجري عليكم أحكامُ العدل والفضل، {يَغْفرُ لَمن يشاء ويعذِّبُ من يشاء}: إذا أتوا بأسباب المغفرة أو أسباب العذاب، {ولله ملكُ السموات والأرض وما بينهما وإليه المصير}؛ أي: فأيُّ شيء خصَّكم بهذه الفضيلة وأنتم من جملة المماليك ومن جملة من يرجع إلى الله في الدار الآخرةِ فيجازيكم بأعمالكم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔