جس دن اللہ رسولوں کو جمع کرے گا، پھر کہے گا تمہیں کیا جواب دیا گیا؟ وہ کہیں گے ہمیں کچھ علم نہیں، بےشک تو ہی چھپی باتوں کو بہت خوب جاننے والا ہے۔
En
(وہ دن یاد رکھنے کے لائق ہے) جس دن خدا پیغمبروں کو جمع کرے گا پھر ان سے پوچھے گا کہ تمہیں کیا جواب ملا تھا وہ عرض کریں گے کہ ہمیں کچھ معلوم نہیں توہی غیب کی باتوں سے واقف ہے
جس روز اللہ تعالیٰ تمام پیغمبروں کو جمع کرے گا، پھر ارشاد فرمائے گا کہ تم کو کیا جواب ملا تھا، وه عرض کریں گے کہ ہم کو کچھ خبر نہیں تو ہی بےشک پوشیده باتوں کو پورا جاننے واﻻ ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے دن اور اس کی ہولناکیوں کے بارے میں خبر دیتا ہے نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ تمام رسولوں کو جمع کر کے ان سے پوچھے گا ﴿مَاذَاۤاُجِبْتُمْ ﴾”تمھیں کیا جواب ملا تھا۔“ یعنی اس بارے میں تمھاری امتوں نے کیا جواب دیا ﴿ قَالُوْالَاعِلْمَلَنَا ﴾”وہ جواب دیں گے کہ ہمیں کوئی علم نہیں۔“ تجھے ہی علم ہے۔ اے ہمارے رب! تو ہم سے زیادہ جانتا ہے ﴿ اِنَّكَاَنْتَعَلَّامُالْغُیُوْبِ ﴾”تو ہی غیب کی باتوں سے واقف ہے۔“ یعنی تو حاضر و غائب تمام امور کو جانتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى عن يوم القيامة وما فيه من الأهوال العظام، وأن الله يجمعُ به جميع الرُّسل، فيسألهم: {ماذا أُجِبْتُم}؛ أي: ماذا أجابتكم به أمَمُكم، فقالوا: {لا علمَ لنا}: وإنما العلمُ لك يا ربَّنا؛ فأنت أعلم منا. {إنَّك أنت علاَّمُ الغُيوبِ}؛ أي: تعلمُ الأمورَ الغائبة والحاضرة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔