تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المائده (5) — آیت 102

قَدۡ سَاَلَہَا قَوۡمٌ مِّنۡ قَبۡلِکُمۡ ثُمَّ اَصۡبَحُوۡا بِہَا کٰفِرِیۡنَ ﴿۱۰۲﴾
بے شک تم سے پہلے ان کے بارے میں کچھ لوگوں نے سوال کیا، پھر وہ ان سے کفر کرنے والے ہوگئے۔ En
اس طرح کی باتیں تم سے پہلے لوگوں نے بھی پوچھی تھیں (مگر جب بتائی گئیں تو) پھر ان سے منکر ہو گئے
En
ایسی باتیں تم سے پہلے اور لوگوں نے بھی پوچھی تھیں، پھر ان باتوں کے منکر ہوگئے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ سوالات جن سے تمھیں منع کیا گیا ہے ﴿ قَدْ سَاَلَ٘هَا قَوْمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ تحقیق پوچھ چکی ہے یہ باتیں ایک جماعت تم سے پہلے یعنی اس جنس کے اور اسی قسم کے سوالات تھے۔ ان کا سوال طلب رشد کے لیے نہ تھا بلکہ تلبیس کی خاطر تھا۔ جب ان کے سوال کا جواب واضح ہو کر ان کے سامنے آ گیا ﴿ثُمَّ اَصْبَحُوْا بِهَا كٰفِرِیْنَ تو وہ ان کے ساتھ کفر کرنے والے ہو گئے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحیح حدیث میں فرمایا جب میں تمھیں کسی چیز سے روک دوں تو اس سے اجتناب کرو اور جب کسی کام کے کرنے کا حکم دوں تو اپنی استطاعت کے مطابق اس حکم کی تعمیل کرو کیونکہ تم سے پہلے قومیں کثرت سوال اور اپنے نبیوں سے اختلاف کرنے کی بنا پر ہلاک ہوئیں (صحیح مسلم، الحج، حدیث: 1337)
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وهذه المسائل التي نُهيتم عنها، {قد سألها قومٌ من قبلِكُم}؛ أي: جنسها وشبهها سؤال تعنُّت لا استرشاد، فلما بُيِّنَتْ لهم وجاءتهم، {أصبحوا بها كافرين}؛ كما قال النبيُّ - صلى الله عليه وسلم - في الحديث الصحيح: «ما نهيتكم عنه؛ فاجتنبوه، وما أمرتكم به؛ فأتوا منه ما استطعتم؛ فإنما أهلك مَن كان قبلكم كثرةُ مسائلهم واختلافُهم على أنبيائهم».