تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
بنابریں فرمایا: ﴿ وَلَوْاَنَّهُمْصَبَرُوْاحَتّٰىتَخْرُجَاِلَیْهِمْلَكَانَخَیْرًالَّهُمْ١ؕوَاللّٰهُغَفُوْرٌرَّحِیْمٌ﴾”اور اگر وہ صبر کرتے حتیٰ کہ آپ خود نکل کر ان کے پاس آتے، تو یہ ان کے لیے بہتر تھا، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔“ یعنی بندوں سے جو گناہ صادر ہوتے ہیں اور ان سے ادب میں جو خلل واقع ہوتا ہے اللہ تعالیٰ ان کو بخشنے والا ہے، وہ ان پر بہت مہربان ہے کہ وہ ان کو ان کے گناہوں کی پاداش میں فوراً عذاب میں مبتلا نہیں کرتا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولهذا قال: {ولو أنَّهم صَبَروا حتى تخرُجَ إليهم لكان خيراً لهم والله غفورٌ رحيمٌ}؛ أي: غفورٌ لما صدر عن عباده من الذُّنوب والإخلال بالآداب، رحيمٌ بهم حيث لم يعاجلْهم بذنوبهم بالعقوبات والمَثُلات.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔