تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الفتح (48) — آیت 2

لِّیَغۡفِرَ لَکَ اللّٰہُ مَا تَقَدَّمَ مِنۡ ذَنۡۢبِکَ وَ مَا تَاَخَّرَ وَ یُتِمَّ نِعۡمَتَہٗ عَلَیۡکَ وَ یَہۡدِیَکَ صِرَاطًا مُّسۡتَقِیۡمًا ۙ﴿۲﴾
تاکہ اللہ تیرے لیے بخش دے تیرا کوئی گناہ جو پہلے ہوا اور جو پیچھے ہوا اور اپنی نعمت تجھ پر پوری کرے اور تجھے سیدھے راستے پر چلائے۔ En
تاکہ خدا تمہارے اگلے اور پچھلے گناہ بخش دے اور تم پر اپنی نعمت پوری کردے اور تمہیں سیدھے رستے چلائے
En
تاکہ جو کچھ تیرے گناه آگے ہوئے اور جو پیچھے سب کو اللہ تعالیٰ معاف فرمائے، اور تجھ پر اپنا احسان پورا کر دے اور تجھے سیدھی راه چلائے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس فتح پر اللہ تعالیٰ نے متعدد امور مرتب فرمائے۔چنانچہ فرمایا:﴿ لِّ٘یَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَمَا تَاَخَّرَ تاکہ اللہ آپ کے اگلے پچھلے گناہ بخش دے۔ و اللّٰہ اعلم۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اس کے باعث بہت سے نیکیاں حاصل ہوئیں، لوگ دین میں بہت کثرت سے داخل ہوئے، نیز اس بنا پر کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ شرائط برداشت کیں جن پر اولوالعزم رسولوں کے سوا کوئی صبر نہیں کر سکتا۔ یہ چیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم ترین مناقب اور کرامات میں شمار ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیے۔ ﴿ وَیُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ اور تاکہ آپ کے دین کو اعزاز عطا کر کے، آپ کو آپ کے دشمنوں کے خلاف فتح و نصرت سے بہرہ مند کر کے اور آپ کے کلمہ کو وسعت بخش کر آپ پر اپنی نعمت کا اتمام کرے۔ ﴿وَیَهْدِیَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا اور آپ کو سیدھے راستے پر چلائے۔ تاکہ آپ سعادت ابدی اور فلاح سرمدی حاصل کر سکیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ورتَّب الله على هذا الفتح عدة أمور، فقال: {ليغفر لك اللهُ ما تقدَّم من ذنبِكَ وما تأخَّر}: وذلك ـ والله أعلم ـ بسبب ما حَصَلَ بسببه من الطاعات الكثيرة والدُّخول في الدين بكثرة، وبما تحمل - صلى الله عليه وسلم - من تلك الشروط التي لا يصبِرُ عليها إلاَّ أولو العزم من المرسلين، وهذا من أعظم مناقبه وكراماته - صلى الله عليه وسلم -: أنْ غَفَرَ الله له ما تقدَّم من ذنبه وما تأخَّر، {ويتمَّ نعمته عليك}: بإعزاز دينك ونصرِك على أعدائك واتِّساع كلمتك، {ويهدِيَك صراطاً مستقيماً}: تنال به السعادةَ الأبديَّة والفلاح السرمديَّ.