نہیں ہے اندھے پر کوئی تنگی اور نہ لنگڑے پر کوئی تنگی اور نہ بیمار پر کوئی تنگی اور جو اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانے گا وہ اسے ان باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں اور جو پھر جائے گا وہ اسے سزا دے گا، دردناک سزا۔
En
نہ تو اندھے پر گناہ ہے (کہ سفر جنگ سے پیچھے رہ جائے) اور نہ لنگڑے پر گناہ ہے اور نہ بیمار پر گناہ ہے۔ اور جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر کے فرمان پر چلے گا خدا اس کو بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے تلے نہریں بہہ رہی ہیں۔ اور جو روگردانی کرے گا اسے برے دکھ کی سزا دے گا
اندھے پر کوئی حرج نہیں ہے اور نہ لنگڑے پر کوئی حرج ہے اور نہ بیمار پر کوئی حرج ہے، جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے اسے اللہ ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جس کے (درختوں) تلے نہریں جاری ہیں اور جو منھ پھیر لے اسے دردناک عذاب (کی سزا) دے گا
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تعالیٰ نے ان عذروں کا ذکر فرمایا جن کی بنا پر بندہ جہاد میں نکلنے سے معذور ہوتا ہے، لہٰذا فرمایا: ﴿ لَ٘یْسَعَلَىالْاَعْمٰىحَرَجٌوَّلَاعَلَىالْاَعْرَجِحَرَجٌوَّلَاعَلَىالْ٘مَرِیْضِحَرَجٌ﴾”نہ تو اندھے پر گناہ ہے نہ لنگڑے پر گناہ ہے اور نہ مریض پر گناہ ہے۔“ یعنی اپنے عذر کی بنا پر، جو جہاد پر نکلنے سے مانع ہے، جہاد سے پیچھے رہ جائیں، تو ان پر کوئی حرج نہیں۔ ﴿ وَمَنْیُّطِعِاللّٰهَوَرَسُوْلَهٗ﴾”جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا۔“ یعنی ان کے اوامر کی تعمیل کرنے اور ان کے نواہی سے اجتناب کرنے میں ﴿ یُدْخِلْهُجَنّٰتٍتَجْرِیْمِنْتَحْتِهَاالْاَنْ٘هٰرُ﴾” اللہ اس کو بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔“ ان جنتوں میں ہر وہ چیز ہو گی، نفس جس کی خواہش کریں گے اور آنکھوں کو جن سے لذت حاصل ہو گی۔
﴿ وَمَنْیَّتَوَلَّ﴾ اور جو کوئی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت سے منہ موڑ لے۔ ﴿ یُعَذِّبْهُعَذَابً٘ااَلِیْمًا﴾ تو اللہ تعالیٰ اسے درد ناک عذاب دے گا۔ سعادت تمام تر اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں اور شقاوت اس کی نافرمانی اور مخالفت میں ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم ذكر الأعذار التي يُعْذَرُ بها العبد عن الخروج إلى الجهاد، فقال: {ليس على الأعمى حَرَجٌ ولا على الأعرج حَرَجٌ ولا على المريض حَرَجٌ}؛ أي: في التخلُّف عن الجهاد لعذرِهم المانع، {ومن يطع اللهَ ورسولَه}: في امتثال أمرهما واجتناب نهيهما، {يُدْخِلْه جناتٍ تجري من تحتها الأنهار}: فيها ما تشتهيه الأنفس، وتلذُّ الأعينُ، {ومن يَتَوَلَّ}: عن طاعة الله ورسوله، {يعذِّبْه عذاباً أليماً}: فالسعادةُ كلُّها في طاعة الله، والشقاوة في معصيته ومخالفته.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔