اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کی ہے، وہ بخش دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور سزا دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور اللہ ہمیشہ سے بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
En
اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہی خدا ہی کی ہے۔ وہ جسے چاہے بخشے اور جسے چاہے سزا دے۔ اور خدا بخشنے والا مہربان ہے
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یعنی اللہ تعالیٰ اکیلا ہی آسمانوں اور زمین کے اقتدار کا مالک ہے وہ جیسے چاہتا ہے، آسمانوں اور زمین میں اپنے احکام قدری، احکام شرعی اور احکام جزائی نافذ کرتا ہے، اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے حکم جزائی کا ذکر فرمایا جو احکام شرعی پر مترتب ہوتا ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿ یَغْفِرُلِمَنْیَّشَآءُ﴾”وہ جسے چاہے بخش دے۔“ اور یہ وہ شخص ہے جس نے اللہ کے حکم کی اطاعت کی۔ ﴿ وَیُعَذِّبُمَنْیَّشَآءُ﴾”اور وہ جسے چاہے عذاب دے۔“ اور یہ وہ شخص ہے جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو ہیچ جانا۔ ﴿ وَكَانَاللّٰهُغَفُوْرًارَّحِیْمًا﴾”اور اللہ معاف کرنے والا نہایت مہربان ہے۔“ اس کا وصف لازم ہے جس کی بنا پر مغفرت اور رحمت کبھی اس سے جدا نہیں ہوتے۔ وہ ہر وقت گناہ گاروں کے گناہ بخشتا ہے، خطا کاروں کی خطاؤ ں سے درگزر کرتا ہے اور توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول کرتا ہے۔ اس کی بے پایاں بھلائی رات دن نازل ہوتی رہتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: هو تعالى المنفردُ بملك السماواتِ والأرضِ، يتصرَّف فيهما بما يشاء من الأحكام القدريَّة والأحكام الشرعيَّة والأحكام الجزائيَّة، ولهذا ذكر حكم الجزاء المرتَّب على الأحكام الشرعيَّة، فقال: {يَغْفِرُ لِمَن يشاءُ}: وهو مَنْ قام بما أمره الله به، {ويعذِّبُ مَن يشاءُ}: ممَّن تهاونَ بأمرِ الله، {وكان الله غفوراً رحيماً}؛ أي: وصفه اللازم الذي لا ينفكُّ عنه المغفرةُ والرحمةُ، فلا يزال في جميع الأوقات يغفِرُ للمذنبين، ويتجاوزُ عن الخطَّائين، ويتقبَّل توبة التائبين، ويُنزِلُ خيرَه المدرار آناء الليل والنهار.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔