تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ محمد (47) — آیت 12

اِنَّ اللّٰہَ یُدۡخِلُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ ؕ وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا یَتَمَتَّعُوۡنَ وَ یَاۡکُلُوۡنَ کَمَا تَاۡکُلُ الۡاَنۡعَامُ وَ النَّارُ مَثۡوًی لَّہُمۡ ﴿۱۲﴾
یقینا اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنھوں نے نیک اعمال کیے ان جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا فائدہ اٹھاتے اور کھاتے ہیں، جس طرح چوپائے کھاتے ہیں اور آگ ان کے لیے رہنے کی جگہ ہے۔ En
جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے ان کو خدا بہشتوں میں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں داخل فرمائے گا۔ اور جو کافر ہیں وہ فائدے اٹھاتے ہیں اور (اس طرح) کھاتے ہیں جیسے حیوان کھاتے ہیں۔ اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے
En
جو لوگ ایمان ﻻئے اور انہوں نے نیک اعمال کیے انہیں اللہ تعالیٰ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہیں اور جو لوگ کافر ہوئے وه (دنیا ہی کا) فائده اٹھا رہے ہیں اور مثل چوپایوں کے کھا رہے ہیں، ان کا (اصل) ٹھکانہ جہنم ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس بات کا ذکر کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا سر پرست ہے یہ بھی بیان فرمایا کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ انھیں جنت میں داخل کرے گا، جہاں نہریں بہتی ہوں گی جو خوبصورت باغات، ہر قسم کے تر و تازہ پھل اور میوے دار درختوں کو سیراب کریں گی۔ چونکہ کفار کے بارے میں ذکر فرمایا کہ ان کا کوئی والی و مددگار نہیں، اس لیے فرمایا کہ ان کو ان کے نفس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ بنابریں وہ مروت کی صفات سے متصف ہو سکے نہ انسانی صفات سے بلکہ وہ نچلی سطح پر گر کر چوپایوں کی مانند ہو گئے ہیں جو عقل سے محروم ہوتے ہیں اور ان میں کوئی فضیلت نہیں ہوتی۔ ان کا سب سے بڑا مقصد صرف دنیا کی لذات و شہوات سے متمتع ہونا ہے۔ اس لیے آپ دیکھیں گے کہ ان کی ظاہری و باطنی حرکات انھی لذات و شہوات کے دائرہ میں ہوتی ہیں اور ان امور کے لیے نہیں ہوتیں جن میں خیر اور سعادت ہوتی ہے۔ بنابریں ان کا ٹھکانا جہنم ہوگا، یعنی جہنم کے اندر ان کے لیے گھر تیار کیا گیا ہو گا۔ جہاں ان کے عذاب میں کبھی انقطاع واقع نہیں ہو گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

لما ذكر تعالى أنه وليُّ المؤمنين؛ ذكر ما يفعل بهم في الآخرة من دخول الجناتِ، التي تجري من تحتها الأنهار، التي تسقي تلك البساتين الزاهرة، والأشجار الناضرة المثمرة؛ لكلِّ زوج بَهيج، وكل فاكهة لذيذة. ولمَّا ذَكَرَ أن الكافرين لا مولى لهم؛ ذكر أنَّهم وُكِلوا إلى أنفسهم، فلم يتَّصفوا بصفات المروءة ولا الصفات الإنسانية، بل نزلوا عنها دركاتٍ، وصاروا كالأنعام التي لا عقل لها ولا فضل، بل جلُّ همِّهم ومقصدهم التمتُّع بلذَّات الدُّنيا وشهواتها، فترى حركاتهم الظاهرة والباطنة دائرةً حولها غير متعدِّيةٍ لها إلى ما فيه الخير والسعادة، ولهذا كانت النارُ مثوى لهم؛ أي: منزلاً معدًّا لا يخرجون منها ولا يفتَّر عنهم من عذابها.