کہہ دے میں رسولوں میں سے کوئی انوکھا نہیں ہوں اور نہ میں یہ جانتا ہوں کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور نہ (یہ کہ) تمھارے ساتھ (کیا)، میں تو بس اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کیا جاتا ہے اور میں تو بس واضح ڈرانے والا ہوں۔
En
کہہ دو کہ میں کوئی نیا پیغمبر نہیں آیا۔ اور میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کیا (کیا جائے گا) میں تو اسی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر وحی آتی ہے اور میرا کام تو علانیہ ہدایت کرنا ہے
آپ کہہ دیجئے! کہ میں کوئی بالکل انوکھا پیغمبر تو نہیں نہ مجھے یہ معلوم ہے کہ میرے ساتھ اور تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا۔ میں تو صرف اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی بھیجی جاتی ہے اور میں تو صرف علیاﻻعلان آگاه کر دینے واﻻ ہوں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ قُ٘لْمَاكُنْتُبِدْعًامِّنَالرُّسُلِ﴾ یعنی میں کوئی پہلا رسول نہیں جو تمھارے پاس آیا ہوں کہ تم میری رسالت کو عجیب و غریب پاؤ اور میری دعوت کا انکار کرو، مجھ سے پہلے بھی انبیاء و رسل آچکے ہیں، میری دعوت اور ان کی دعوت میں موافقت ہے، پھر تم کس بنا پر میری رسالت کا انکار کر رہے ہو۔ ﴿ وَمَاۤاَدْرِیْمَایُفْعَلُبِیْوَلَابِكُمْ﴾”میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ اور تمھارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا؟“ یعنی میں تو صرف ایک بشر ہوں، میرے اختیار میں کچھ بھی نہیں، میرے اور تمھارے بارے میں صرف اللہ تعالی ہی تصرف کرتا ہے، مجھ پر اور تم پر وہی اپنے فیصلے نافذ کرتا ہے۔ میں اپنی طرف سے کچھ پیش نہیں کرتا ﴿ وَمَاۤاَنَااِلَّانَذِیْرٌمُّبِیْنٌ﴾”اور میں تو صرف علی الاعلان ڈرانے والا ہوں۔“لہٰذا اگر تم میری رسالت کو مانتے ہوئے میری دعوت کو قبول کر لو تو یہ دنیا و آخرت میں تمھاری خوش نصیبی اور تمھارا بہرۂ وافر ہے۔ اور اگر تم اس دعوت کو ٹھکرا دو تو تمھارا حساب اللہ تعالی کے ذمہ ہے۔میں نے تو تمھیں برے انجام سے خبردار کر دیا ہے اور جس نے خبردار کر دیا وہ بریٔ الذمہ ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{قلْ ما كنتُ بدعاً من الرُّسل}؛ أي: لست بأول رسول جاءكم حتى تستغربوا رسالتي وتستنكروا دعوتي؛ فقد تقدَّم من الرسل والأنبياء من وافقت دعوتي دعوتهم؛ فلأيِّ شيء تنكرون رسالتي؟! {وما أدري ما يُفْعَلُ بي ولا بكم}؛ أي: لست إلاَّ بشراً، ليس بيدي من الأمر شيء، والله تعالى [هو] المتصرِّفُ بي وبكم، الحاكم عليَّ وعليكم، ولست آتي بالشيء من عندي. {وما أنا إلاَّ نذيرٌ مبينٌ}: فإنْ قبلتُم رسالتي وأجبتُم دعوتي؛ فهو حظُّكم ونصيبُكم في الدُّنيا والآخرة، وإن رددتُم ذلك عليَّ؛ فحسابُكم على الله، وقد أنذرْتكم، ومن أنذر فقد أعذر.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔