تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأحقاف (46) — آیت 7

وَ اِذَا تُتۡلٰی عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لِلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَہُمۡ ۙ ہٰذَا سِحۡرٌ مُّبِیۡنٌ ؕ﴿۷﴾
اورجب ان کے سامنے ہماری واضح آیا ت پڑھی جاتی ہیں تو وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا حق کے بارے میں، جب وہ ان کے پاس آیا، کہتے ہیں یہ کھلا جادو ہے۔ En
اور جب ان کے سامنے ہماری کھلی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کافر حق کے بارے میں جب ان کے پاس آچکا کہتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو ہے
En
اور انہیں جب ہماری واضح آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو منکر لوگ سچی بات کو جب کہ ان کے پاس آچکی، کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اور جب ان جھٹلانے والوں کے سامنے تلاوت کی جاتی ہیں ﴿ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ ہماری واضح آیات اور وہ اس طرح واقع ہوتی ہیں کہ ان کے واقع ہونے اور حق ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں کیا جاسکتا۔یہ آیات انھیں کوئی فائدہ نہیں دیتیں بلکہ ان کے ذریعے سے ان پر حجت قائم ہوتی ہے۔
وہ اپنی بہتان طرازی اور افترا پردازی کی بنا پر کہتے ہیں ﴿ لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۙ هٰؔذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ حق کے بارے میں، جب حق ان کے پاس آیا کہ یہ تو کھلا جادو ہےیعنی ظاہر جادو ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ان کا یہ قول قلب حقائق کے زمرے میں آتا ہے، جو ضعیف العقل لوگوں میں میں رواج پاسکتا ہے۔ورنہ حق، جسے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم لے کر مبعوث ہوئے ہیں اور جادو کے مابین بہت بڑا تفاوت اور منافات ہے جو زمین و آسمان کے تفاوت سے بڑھ کر ہے۔ وہ حق، جو غالب اور افلاک کی بلندیوں پر پہنچا ہوا ہے جس کی روشنی سورج کی روشنی سے بڑھ کر ہے، جس کی حقانیت پر دلائلِ آفاق اور دلائلِ نفس دلالت کرتے ہیں، جس کے سامنے اصحاب بصیرت اور خردمند لوگ سرنگوں ہیں اور اس کا اقرار کرتے ہیں،اسے باطل پر کیسے قیاس کیا جا سکتا ہے؟ جو جادو ہے، جو ظالم، گمراہ، خبیث النفس اور خبیث العمل شخص کے سوا کسی اور سے صادر نہیں ہو سکتا۔ پس جادو ایسے ہی شخص کے لیے مناسب اور اس کے موافق حال ہوتا ہے۔کیا یہ باطل کے سوا کچھ اور ہے؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: {وإذا تُتْلى}: على المكذِّبين {آياتُنا بيناتٍ}: بحيث تكون على وجهٍ لا يُمترى بها، ولا يشكُّ في وقوعها وحقِّها؛ لم تفِدْهم خيراً، بل قامت عليهم بذلك الحجة، ويقولون من إفكهم وإفترائهم {للحقِّ لمَّا جاءهم هذا سحرٌ مبينٌ}؛ أي: ظاهرٌ لا شكَّ فيه. وهذا من باب قلب الحقائق، الذي لا يروجُ إلاَّ على ضعفاء العقول، وإلاَّ؛ فبين الحقِّ الذي جاء به الرسولُ - صلى الله عليه وسلم - وبين السحر من المنافاة والمخالفة أعظم ممَّا بين السماء والأرض، وكيف يقاسُ الحقُّ ـ الذي علا وارتفع ارتفاعاً علا على الأفلاك، وفاق بضوئه ونوره نور الشمس، وقامت الأدلَّة الأفقيَّة والنفسيَّة عليه، وأقرَّت به، وأذعنت أولو البصائر والعقول الرزينة بالباطل الذي هو السحرُ الذي لا يصدُرُ إلاَّ من ضالٍّ ظالمٍ خبيث النفس خبيث العمل؛ فهو مناسبٌ له وموافقٌ لحاله؟! وهل هذا إلاَّ من البهرجة؟!