تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأحقاف (46) — آیت 5

وَ مَنۡ اَضَلُّ مِمَّنۡ یَّدۡعُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَنۡ لَّا یَسۡتَجِیۡبُ لَہٗۤ اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ وَ ہُمۡ عَنۡ دُعَآئِہِمۡ غٰفِلُوۡنَ ﴿۵﴾
اور اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہے جو اللہ کے سوا انھیں پکارتا ہے جو قیامت کے دن تک اس کی دعا قبول نہیں کریں گے اور وہ ان کے پکارنے سے بے خبر ہیں۔ En
اور اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہوسکتا ہے جو ایسے کو پکارے جو قیامت تک اسے جواب نہ دے سکے اور ان کو ان کے پکارنے ہی کی خبر نہ ہو
En
اور اس سے بڑھ کر گمراه اور کون ہوگا؟ جو اللہ کے سوا ایسوں کو پکارتا ہے جو قیامت تک اس کی دعا قبول نہ کر سکیں بلکہ ان کے پکارنے سے محض بےخبر ہوں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ یَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا یَسْتَجِیْبُ لَهٗۤ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ اور اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہوسکتا ہے جو اللہ کے سوا کسی ایسی ذات کو پکارے جو قیامت تک اس کا جواب نہ دے سکے۔ یعنی جتنی مدت اس کا دنیا میں قیام ہے وہ اس سے ذرہ بھر فائدہ نہیں اٹھا سکتا ﴿ وَهُمْ عَنْ دُعَآىِٕهِمْ غٰفِلُوْنَ اور وہ ان کی پکار سے غافل ہیں۔ وہ ان کی کوئی دعا سن سکتے ہیں نہ ان کی کسی پکار کا جواب دے سکتے ہیں یہ ان کا دنیا میں حال ہے اور قیامت کے روز وہ تمھارے شرک کا انکار کریں گے۔ ﴿ وَاِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوْا لَهُمْ اَعْدَآءًؔ اور جب لوگ جمع کیے جائیں گے تو وہ ان کے دشمن ہوں گے۔ وہ ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے اور ایک دوسرے سے بیزاری کا اظہار کریں گے ﴿ وَّكَانُوْا بِعِبَادَتِهِمْ كٰفِرِیْنَ اور وہ ان کی عبادت کا انکار کریں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولهذا قال تعالى: {ومن أضلُّ ممَّن يدعو من دونِ الله من لا يستجيبُ له إلى يوم القيامةِ}؛ أي: مدة مقامه في الدنيا لا ينتفع به مثقال ذرَّة، {وهم عن دعائهم غافلون}: لا يسمعون منهم دعاءً ولا يجيبون لهم نداءً. هذا حالهم في الدُّنيا، ويوم القيامة يكفرون بشرككم، وإذا حُشِرَ الناس كانوا لهم أعداء يلعن بعضُهم بعضاً، ويتبرأ بعضُهم من بعض وكانوا بعبادتهم كافرين.