تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأحقاف (46) — آیت 2

تَنۡزِیۡلُ الۡکِتٰبِ مِنَ اللّٰہِ الۡعَزِیۡزِ الۡحَکِیۡمِ ﴿۲﴾
اس کتاب کا اتارنا اللہ کی طرف سے ہے جو سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔ En
(یہ) کتاب خدائے غالب (اور) حکمت والے کی طرف سے نازل ہوئی ہے
En
اس کتاب کا اتارنا اللہ تعالیٰ غالب حکمت والے کی طرف سے ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ اللہ تعالی کی طرف سے اپنی کتاب عزیز کی ثنا اور تعظیم ہے اور اس ضمن میں بندوں کے لیے اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ وہ اس کتاب کی روشنی سے راہ نمائی حاصل کریں، اس کی آیات میں تدبر کریں اور اس کے خزانوں کا استخراج کریں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

هذا ثناءٌ منه تعالى على كتابه العزيز وتعظيمٌ له، وفي ضمن ذلك إرشادُ العباد إلى الاهتداء بنوره والإقبال على تدبُّر آياته واستخراج كنوزِهِ.