تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأحقاف (46) — آیت 18

اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ حَقَّ عَلَیۡہِمُ الۡقَوۡلُ فِیۡۤ اُمَمٍ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ مِّنَ الۡجِنِّ وَ الۡاِنۡسِ ؕ اِنَّہُمۡ کَانُوۡا خٰسِرِیۡنَ ﴿۱۸﴾
یہی وہ لوگ ہیں جن پر بات ثابت ہو گئی ان امتوں سمیت جو جن و انس میں سے ان سے پہلے گزر چکیں، یقینا وہ خسارہ پانے والے تھے۔ En
یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں جنوں اور انسانوں کی (دوسری) اُمتوں میں سے جو ان سے پہلے گزر چکیں عذاب کا وعدہ متحقق ہوگیا۔ بےشک وہ نقصان اٹھانے والے تھے
En
وه لوگ ہیں جن پر (اللہ کے عذاب کا) وعده صادق آگیا، ان جنات اور انسانوں کے گروہوں کے ساتھ جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں، یقیناً یہ نقصان پانے والے تھے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِیْنَ یعنی اس مذموم حالت کے حاملین ﴿ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ ان پر کلمۂ عذاب واجب ہوگیا ﴿ فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْ٘جِنِّ وَالْاِنْ٘سِ وہ ان جنات اور انسانوں کے گروہ کے ساتھ شامل ہوں گے جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں۔ ان جملہ قوموں میں جو کفر اور تکذیب پر جمی رہیں عنقریب وہ اپنے کرتوتوں کے سمندر میں غرق ہوں گے۔ ﴿ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ یقیناً وہ نقصان پانے والے تھے۔ اور خسران انسان کے رأس المال کے ضائع ہونے کا نام ہے۔ جب رأس المال ہی مفقود ہو تو منافع سے محرومی تو بدرجہ اولی ہے۔پس وہ ایمان سے محروم ہو گئے ہیں انھیں کوئی نعمت حاصل ہوئی نہ وہ جہنم کے عذاب سے بچ سکے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{أولئك الذين}: بهذه الحالة الذَّميمة {حقَّ عليهم القولُ}؛ أي: حقَّت عليهم كلمة العذاب {في} جملة {أمم قد خَلَتْ من قبلهم من الجنِّ والإنس}: على الكفر والتكذيب، فسيدخل هؤلاء في غمارهم، ويغرقون في تيَّارهم. {إنَّهم كانوا خاسرينَ}: والخسران فواتُ رأس مال الإنسان، وإذا فقد رأسَ مالِهِ؛ فالأرباح من باب أولى وأحرى؛ فهم قد فاتهم الإيمان، ولم يحصِّلوا شيئاً من النعيم، ولا سلموا من عذاب الجحيم.