تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الجاثيه (45) — آیت 3

اِنَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ لَاٰیٰتٍ لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ ؕ﴿۳﴾
بلاشبہ آسمانوں اور زمین میں ایمان والوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں۔ En
بےشک آسمانوں اور زمین میں ایمان والوں کے لئے (خدا کی قدرت کی) نشانیاں ہیں
En
آسمانوں اور زمین میں ایمان داروں کے لیے یقیناً بہت سی نشانیاں ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے آیات افقیہ و نفسیہ کا ذکر کر کے اس کی تائید فرمائی۔ یعنی آسمانوں اور زمین کی تخلیق کا ذکر فرمایا نیز زمین کے اندر جو چوپائے پھیلائے، آسمان اور زمین میں جو منفعتیں ودیعت کیں، آسمان سے جو پانی نازل کیا، جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ زمین اور اپنے بندوں کو زندگی بخشتا ہے، تائید کے لیے ان کا ذکر فرمایا۔ یہ سب اس قرآن عظیم کی صداقت اور ان حکمتوں اور احکام کی صحت کی کھلی نشانیاں اور ان پر واضح دلائل ہیں۔ نیز یہ اس پر بھی دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کمال کا مالک ہے نیز یہ قیامت اور حشرونشر پر دلالت کرتی ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم أيَّد ذلك بما ذكره من الآيات الأفقيَّة والنفسيَّة؛ من خلق السماوات والأرض، وما بثَّ فيهما من الدوابِّ، وما أودعَ فيهما من المنافع، وما أنزل اللهُ من الماءِ الذي يحيي به اللهُ البلاد والعباد؛ فهذه كلُّها آياتٌ بيناتٌ وأدلة واضحاتٌ على صدقِ هذا القرآن العظيم وصحَّة ما اشتمل عليه من الحكم والأحكام، ودالاَّت أيضاً على ما لله تعالى من الكمال، وعلى البعث والنُّشور.