تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الجاثيه (45) — آیت 14

قُلۡ لِّلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا یَغۡفِرُوۡا لِلَّذِیۡنَ لَا یَرۡجُوۡنَ اَیَّامَ اللّٰہِ لِیَجۡزِیَ قَوۡمًۢا بِمَا کَانُوۡا یَکۡسِبُوۡنَ ﴿۱۴﴾
ان لوگوں سے جو ایمان لائے کہہ دے کہ وہ ان لوگوں کو معاف کر دیں جو اللہ کے دنوں کی امید نہیں رکھتے، تاکہ وہ کچھ لوگوں کو اس کا بدلہ دے جو وہ کماتے رہے تھے۔ En
مومنوں سے کہہ دو کہ جو لوگ خدا کے دنوں کی (جو اعمال کے بدلے کے لئے مقرر ہیں) توقع نہیں رکھتے ان سے درگزر کریں۔ تاکہ وہ ان لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلے دے
En
آپ ایمان والوں سے کہہ دیں کہ وه ان لوگوں سے درگزر کریں جو اللہ کے دنوں کی توقع نہیں رکھتے، تاکہ اللہ تعالیٰ ایک قوم کو ان کے کرتوتوں کا بدلہ دے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ حسن اخلاق سے کام لیں اور ان مشرکین کی ایذا رسانی پر صبر کریں جو ایام الٰہی کی امید نہیں رکھتے یعنی جو اللہ تعالیٰ کے ثواب کے امیدوار ہیں نہ گناہ گاروں کے بارے میں سنت الٰہی سے خائف ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر قوم کو اس کی کمائی کا بدلہ دے گا۔ پس اے مومنوں کے گروہ! اللہ تعالیٰ تمھارے ایمان، تمھارے درگزر اور تمھارے صبر کی جزا کے طور پر تمھیں ثواب جزیل سے بہرہ مند کرے گا۔
اگر کفار و مشرکین اپنی تکذیب پر جمے رہے تو تم پر رسوا کن وہ سخت عذاب نازل نہیں ہو گا جو ان پر نازل ہوگا۔ بنابریں فرمایا: ﴿مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَمَنْ اَسَآءَ فَعَلَیْهَا١ٞ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ جو کوئی نیک عمل کرتا ہے وہ اپنے لیے کرتا ہے اور جو کوئی برا عمل کرتا ہے تو وہی اس کا خمیازہ بھگتے گا، پھر تم سب اپنے رب کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يأمر تعالى عبادَه المؤمنين بحسن الخلق والصَّبر على أذيَّة المشركين به الذين {لا يرجون أيام الله}؛ أي: لا يرجون ثوابَه ولا يخافون وقائعَه في العاصين؛ فإنَّه تعالى سيجزي كلَّ قوم {بما كانوا يكسبون}: فأنتم يا معشر المؤمنين يجزيكم على إيمانكم وصفحكم وصبركم ثواباً جزيلاً، وهم إن استمرُّوا على تكذيبهم؛ فلا يحلُّ بكم ما حلَّ بهم من العذاب الشديد والخزي، ولهذا قال: {مَن عَمِلَ صالحاً فلنفسِهِ ومَن أساءَ فعليها ثم إلى ربِّكم تُرْجَعون}.