تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الجاثيه (45) — آیت 12

اَللّٰہُ الَّذِیۡ سَخَّرَ لَکُمُ الۡبَحۡرَ لِتَجۡرِیَ الۡفُلۡکُ فِیۡہِ بِاَمۡرِہٖ وَ لِتَبۡتَغُوۡا مِنۡ فَضۡلِہٖ وَ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ ﴿ۚ۱۲﴾
اللہ وہ ہے جس نے تمھاری خاطر سمندر کو مسخر کر دیا، تاکہ جہاز اس میںاس کے حکم سے چلیں اور تا کہ تم اس کا کچھ فضل تلاش کرو اور تاکہ تم شکر کرو۔ En
خدا ہی تو ہے جس نے دریا کو تمہارے قابو کردیا تاکہ اس کے حکم سے اس میں کشتیاں چلیں اور تاکہ تم اس کے فضل سے (معاش) تلاش کرو اور تاکہ شکر کرو
En
اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے دریا کو تابع بنادیا تاکہ اس کے حکم سے اس میں کشتیاں چلیں اور تم اس کا فضل تلاش کرو اور تاکہ تم شکر بجاﻻؤ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنے فضل و احسان کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے حکم سے آسانی پیدا کر کے جہازوں اور کشتیوں کو چلانے کے لیے سمندر کو مسخر کیا۔ ﴿وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ٘ تاکہ تم مختلف قسم کی تجارتوں اور مکاسب کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کر سکو۔ ﴿وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ اور تاکہ تم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو اور جب تم اس کا شکر ادا کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمھیں اور زیادہ نعمتیں عطا کرے گا اور تمھاری شکر گزاری پر بہت بڑے اجر سے نوازے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى عن فضله على عباده وإحسانه إليهم بتسخير البحر لسير المراكب والسُّفن بأمره وتيسيره ، {لتَبْتَغوا من فضله}: بأنواع التجارات والمكاسب، {ولعلَّكم تشكرون}: الله تعالى؛ فإنكم إذا شكرتُموه؛ زادكم من نعمِهِ وأثابكم على شكركم أجراً جزيلاً.