تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الدخان (44) — آیت 59

فَارۡتَقِبۡ اِنَّہُمۡ مُّرۡتَقِبُوۡنَ ﴿٪۵۹﴾
پس انتظار کر،بے شک وہ بھی انتظار کرنے والے ہیں۔ En
پس تم بھی انتظار کرو یہ بھی انتظار کر رہے ہیں
En
اب تو منتظر ره یہ بھی منتظر ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿فَارْتَقِبْ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ جس بھلائی اور نصرت کا وعدہ کیا ہے اس کا انتظار کیجیے۔ ﴿اِنَّهُمْ مُّرْتَقِبُوْنَ وہ بھی اس عذاب کے منتظر ہیں، جو ان پر نازل ہونے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں قسم کے انتظار میں فرق کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا اور آخرت کی بھلائی کا انتظار کرتے ہیں اور اس کے برعکس کفار دنیا و آخرت کے شر کا انتظار کرتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فارتَقِبْ}؛ أي: انتظرْ ما وعدك ربُّك من الخير والنصر. {إنَّهم مرتقبونَ}: ما يحلُّ بهم من العذاب، وفرقٌ بين الارتقابين: رسول الله وأتباعه يرتقبون الخير في الدُّنيا والآخرة، وضدُّهم يرتقبون الشرَّ في الدُّنيا والآخرة.