تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
رسول مصطفی جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کرنے والوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ گزشتہ زمانوں میں بھی جھٹلانے والے موجود تھے اور موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ان کے قصے کا ذکر فرمایا نیز اس عذاب کا ذکر فرمایا جو اللہ تعالیٰ نے ان پر نازل کیا تاکہ جھٹلانے والے اپنے اس رویے سے باز آجائیں، چنانچہ فرمایا: ﴿وَلَقَدْفَتَنَّاقَبْلَهُمْقَوْمَفِرْعَوْنَ ﴾ یعنی ہم نے ان کو، اپنے رسول کریم، حضرت موسیٰ بن عمران علیہ السلام کو ان کی طرف مبعوث کر کے آزمایا جن میں بھلائی اور مکارم اخلاق بدرجہ اتم موجود تھے جو کسی اور میں موجود نہ تھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لما ذكر تعالى تكذيبَ من كذَّب الرسول محمداً - صلى الله عليه وسلم -؛ ذكر أن لهم سلفاً من المكذِّبين، فذكر قصَّتهم مع موسى، وما أحلَّ الله بهم؛ ليرتدعَ هؤلاء المكذِّبون عن ما هم عليه، فقال: {ولقد فتنَّا قبلهم قوم فرعون}؛ أي: ابتليناهم واختبرناهم بإرسال رسولنا موسى بن عمران إليهم، الرسول الكريم الذي فيه من الكرم ومكارم الأخلاق ما ليس في غيره.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔