تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الدخان (44) — آیت 17

وَ لَقَدۡ فَتَنَّا قَبۡلَہُمۡ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ وَ جَآءَہُمۡ رَسُوۡلٌ کَرِیۡمٌ ﴿ۙ۱۷﴾
اور بلا شبہ یقینا ہم نے اس سے پہلے فرعون کی قوم کو آزمایا اور ان کے پاس ایک بہت باعزت رسول آیا۔ En
اور ان سے پہلے ہم نے قوم فرعون کی آزمائش کی اور ان کے پاس ایک عالی قدر پیغمبر آئے
En
یقیناً ان سے پہلے ہم قوم فرعون کو (بھی) آزما چکے ہیں جن کے پاس (اللہ) کا باعزت رسول آیا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

رسول مصطفی جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کرنے والوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ گزشتہ زمانوں میں بھی جھٹلانے والے موجود تھے اور موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ان کے قصے کا ذکر فرمایا نیز اس عذاب کا ذکر فرمایا جو اللہ تعالیٰ نے ان پر نازل کیا تاکہ جھٹلانے والے اپنے اس رویے سے باز آجائیں، چنانچہ فرمایا: ﴿وَلَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَهُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ یعنی ہم نے ان کو، اپنے رسول کریم، حضرت موسیٰ بن عمران علیہ السلام کو ان کی طرف مبعوث کر کے آزمایا جن میں بھلائی اور مکارم اخلاق بدرجہ اتم موجود تھے جو کسی اور میں موجود نہ تھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

لما ذكر تعالى تكذيبَ من كذَّب الرسول محمداً - صلى الله عليه وسلم -؛ ذكر أن لهم سلفاً من المكذِّبين، فذكر قصَّتهم مع موسى، وما أحلَّ الله بهم؛ ليرتدعَ هؤلاء المكذِّبون عن ما هم عليه، فقال: {ولقد فتنَّا قبلهم قوم فرعون}؛ أي: ابتليناهم واختبرناهم بإرسال رسولنا موسى بن عمران إليهم، الرسول الكريم الذي فيه من الكرم ومكارم الأخلاق ما ليس في غيره.