تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزخرف (43) — آیت 82

سُبۡحٰنَ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ رَبِّ الۡعَرۡشِ عَمَّا یَصِفُوۡنَ ﴿۸۲﴾
پاک ہے آسمانوں اور زمین کا رب، جو عرش کا رب ہے، اس سے جو وہ بیان کرتے ہیں۔ En
یہ جو کچھ بیان کرتے ہیں آسمانوں اور زمین کا مالک (اور) عرش کا مالک اس سے پاک ہے
En
آسمانوں اور زمین اور عرش کا رب جو کچھ یہ بیان کرتے ہیں اس سے (بہت) پاک ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿سُبْحٰؔنَ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ رَبِّ الْ٘عَرْشِ عَمَّا یَصِفُوْنَ یہ جو کچھ بیان کرتے ہیں، آسمانوں اور زمین کا رب (اور) عرش عظیم کا رب اس سے پاک ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ شریک، معاون مددگار اور اولاد وغیرہ ان تمام چیزوں سے پاک اور منزہ ہے جو مشرکین اس کی طرف منسوب کرتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{سبحانَ ربِّ السمواتِ والأرض ربِّ العرش عمَّا يصفونَ}: من الشريك والظَّهير والعوين والولد وغير ذلك مما نسبه إليه المشركون.