تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿لَایُفَتَّرُعَنْهُمْ ﴾ ایک گھڑی کے لیے بھی انھیں عذاب سے چھٹکارا نہیں ملے گا، نہ تو عذاب ختم ہو گا اور نہ اس میں نرمی ہی ہوگی۔ ﴿وَهُمْفِیْهِمُبْلِسُوْنَ﴾ یعنی وہ ہر بھلائی سے مایوس اور ہر خوشی سے ناامید ہوں گے۔ وہ اپنے رب کو پکاریں گے: ﴿رَبَّنَاۤاَخْرِجْنَامِنْهَافَاِنْعُدْنَافَاِنَّاظٰ٘لِمُوْنَ۰۰قَالَاخْسَـُٔوْافِیْهَاوَلَاتُكَلِّمُوْنِ﴾ (المومنون: 23؍107، 108) ”اے ہمارے رب! ہمیں جہنم سے نکال لے، اگر ہم نے دوبارہ گناہ کیے تو ہم ظالم ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”اسی میں ذلیل و خوار ہو کر پڑے رہو اور مجھ سے کلام نہ کرو۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
و {لا يُفَتَّرُ عنهم}: العذابُ ساعةً [لا بإزالته] ولا بتهوين عذابه، {وهم فيه مُبْلِسونَ}؛ أي: آيسون من كلِّ خير، غير راجين للفرج، وذلك أنَّهم ينادون ربَّهم، فيقولون: {ربَّنا أخْرِجْنا منها فإنْ عُدْنا فإنَّا ظالمونَ. قال اخسؤوا فيها ولا تُكَلِّمونَ}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔