تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزخرف (43) — آیت 75

لَا یُفَتَّرُ عَنۡہُمۡ وَ ہُمۡ فِیۡہِ مُبۡلِسُوۡنَ ﴿ۚ۷۵﴾
وہ ان سے ہلکا نہیں کیا جائے گا اور وہ اسی میں نا امید ہوں گے۔ En
جو ان سے ہلکا نہ کیا جائے گا اور وہ اس میں نامید ہو کر پڑے رہیں گے
En
یہ عذاب کبھی بھی ان سے ہلکا نہ کیا جائے گا اور وه اسی میں مایوس پڑے رہیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿لَا یُفَتَّرُ عَنْهُمْ ایک گھڑی کے لیے بھی انھیں عذاب سے چھٹکارا نہیں ملے گا، نہ تو عذاب ختم ہو گا اور نہ اس میں نرمی ہی ہوگی۔ ﴿وَهُمْ فِیْهِ مُبْلِسُوْنَ یعنی وہ ہر بھلائی سے مایوس اور ہر خوشی سے ناامید ہوں گے۔ وہ اپنے رب کو پکاریں گے: ﴿رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْهَا فَاِنْ عُدْنَا فَاِنَّا ظٰ٘لِمُوْنَ۰۰ قَالَ اخْسَـُٔوْا فِیْهَا وَلَا تُكَلِّمُوْنِ (المومنون: 23؍107، 108) اے ہمارے رب! ہمیں جہنم سے نکال لے، اگر ہم نے دوبارہ گناہ کیے تو ہم ظالم ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اسی میں ذلیل و خوار ہو کر پڑے رہو اور مجھ سے کلام نہ کرو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

و {لا يُفَتَّرُ عنهم}: العذابُ ساعةً [لا بإزالته] ولا بتهوين عذابه، {وهم فيه مُبْلِسونَ}؛ أي: آيسون من كلِّ خير، غير راجين للفرج، وذلك أنَّهم ينادون ربَّهم، فيقولون: {ربَّنا أخْرِجْنا منها فإنْ عُدْنا فإنَّا ظالمونَ. قال اخسؤوا فيها ولا تُكَلِّمونَ}.