تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿اُدْخُلُواالْجَنَّةَ ﴾”جنت میں داخل ہو جاؤ “ جو کہ جائے قرار ہے۔ ﴿اَنْتُمْوَاَزْوَاجُكُمْ﴾ یعنی تمھارے ساتھ رہنے والے، مثلاً: بیوی، اولاد اور دوست وغیرہ، جن کے تمھارے جیسے اعمال ہیں۔ ﴿تُحْبَرُوْنَ ﴾ یعنی تمھیں نعمتیں بخشی جائیں گی اور تمھیں اکرام سے نوازا جائے گا اور تم اپنے رب کے فضل و کرم یعنی بھلائی، مسرتوں، فرحتوں اور لذتوں سے بہرہ ور ہو گے، زبان جن کا وصف بیان کرنے سے قاصر ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ادخُلوا الجنَّةَ}: التي هي دارُ القرار {أنتُم وأزواجُكم}؛ أي: مَنْ كان على مثل عملِكُم من كلِّ مقارن لكم من زوجةٍ وولدٍ وصاحبٍ وغيرهم، {تُحْبَرونَ}؛ أي: تَنعمون وتُكْرمون، ويأتيكم من فضل ربِّكم من الخيرات والسرور والأفراح واللَّذَّات ما لا تُعَبِّرُ الألسنُ عن وصفه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔