تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزخرف (43) — آیت 70

اُدۡخُلُوا الۡجَنَّۃَ اَنۡتُمۡ وَ اَزۡوَاجُکُمۡ تُحۡبَرُوۡنَ ﴿۷۰﴾
جنت میں داخل ہو جاؤ تم اور تمھاری بیویاں، تم خوش کیے جاؤ گے۔ En
(ان سے کہا جائے گا) کہ تم اور تمہاری بیویاں عزت (واحترام) کے ساتھ بہشت میں داخل ہوجاؤ
En
تم اور تمہاری بیویاں ہشاش بشاش (راضی خوشی) جنت میں چلے جاؤ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ جنت میں داخل ہو جاؤ جو کہ جائے قرار ہے۔ ﴿اَنْتُمْ وَاَزْوَاجُكُمْ یعنی تمھارے ساتھ رہنے والے، مثلاً: بیوی، اولاد اور دوست وغیرہ، جن کے تمھارے جیسے اعمال ہیں۔ ﴿تُحْبَرُوْنَ یعنی تمھیں نعمتیں بخشی جائیں گی اور تمھیں اکرام سے نوازا جائے گا اور تم اپنے رب کے فضل و کرم یعنی بھلائی، مسرتوں، فرحتوں اور لذتوں سے بہرہ ور ہو گے، زبان جن کا وصف بیان کرنے سے قاصر ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ادخُلوا الجنَّةَ}: التي هي دارُ القرار {أنتُم وأزواجُكم}؛ أي: مَنْ كان على مثل عملِكُم من كلِّ مقارن لكم من زوجةٍ وولدٍ وصاحبٍ وغيرهم، {تُحْبَرونَ}؛ أي: تَنعمون وتُكْرمون، ويأتيكم من فضل ربِّكم من الخيرات والسرور والأفراح واللَّذَّات ما لا تُعَبِّرُ الألسنُ عن وصفه.