تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزخرف (43) — آیت 44

وَ اِنَّہٗ لَذِکۡرٌ لَّکَ وَ لِقَوۡمِکَ ۚ وَ سَوۡفَ تُسۡـَٔلُوۡنَ ﴿۴۴﴾
اور بلاشبہ وہ یقینا تیرے لیے اور تیری قوم کے لیے ایک نصیحت ہے اور عنقریب تم سے پوچھا جائے گا ۔ En
اور یہ (قرآن) تمہارے لئے اور تمہاری قوم کے لئے نصیحت ہے اور (لوگو) تم سے عنقریب پرسش ہوگی
En
اور یقیناً یہ (خود) آپ کے لیے اور آپ کی قوم کے لیے نصیحت ہے اور عنقریب تم لوگ پوچھے جاؤ گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَاِنَّهٗ یعنی یہ قرآن کریم ﴿لَذِكْرٌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ تمھارے لیے اور تمھاری قوم کے لیے ذکر (نصیحت) ہے۔ تم لوگوں کے لیے فخر، منقبت جلیلہ اور ایسی نعمت ہے جس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ اس کے وصف کی معرفت حاصل کی جا سکتی ہے۔ نیز یہ قرآن تمھارے سامنے اس دنیاوی اور اخروی بھلائی کو بیان کرتا ہے جس پر یہ مشتمل ہے اور تمھیں اس کی ترغیب دیتا ہے اور تمھیں برائی کے بارے میں بتاتا اور اس سے ڈراتا ہے ﴿وَسَوْفَ تُ٘سْـَٔلُوْنَ اور عنقریب تم سے پوچھا جائے گا۔ اس کے بارے میں کہ آیا تم نے اس کو قائم کر کے رفعت حاصل کی اور اس سے فائدہ اٹھایا، یا تم نے اس کو قائم نہیں کیا تو یہ تمھارے خلاف حجت ہو اور تمھاری طرف سے اس نعمت کی ناسپاسی گردانی جائے؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وإنَّه}؛ أي: هذا القرآن الكريم، ذِكْرٌ {لك ولقومِكَ}؛ أي: فخرٌ لكم ومنقبةٌ جليلةٌ ونعمةٌ لا يقادر قدرها ولا يعرف وصفها، ويذكِّرُكم أيضاً ما فيه من الخير الدنيويِّ والأخرويِّ، ويحثُّكم عليه، ويذكِّرُكم الشرَّ ويرهِّبُكم عنه. {وسوف تُسألونَ}: عنه؛ هل قُمتم به فارتفعتُم وانتفعتُم؟ أم لم تقوموا به فيكون حجةً عليكم وكفراً منكم بهذه النعمة؟