تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَاِنَّهٗ﴾ یعنی یہ قرآن کریم ﴿لَذِكْرٌلَّكَوَلِقَوْمِكَ ﴾”تمھارے لیے اور تمھاری قوم کے لیے ذکر (نصیحت) ہے۔“ تم لوگوں کے لیے فخر، منقبت جلیلہ اور ایسی نعمت ہے جس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ اس کے وصف کی معرفت حاصل کی جا سکتی ہے۔ نیز یہ قرآن تمھارے سامنے اس دنیاوی اور اخروی بھلائی کو بیان کرتا ہے جس پر یہ مشتمل ہے اور تمھیں اس کی ترغیب دیتا ہے اور تمھیں برائی کے بارے میں بتاتا اور اس سے ڈراتا ہے ﴿وَسَوْفَتُ٘سْـَٔلُوْنَ ﴾”اور عنقریب تم سے پوچھا جائے گا۔“ اس کے بارے میں کہ آیا تم نے اس کو قائم کر کے رفعت حاصل کی اور اس سے فائدہ اٹھایا، یا تم نے اس کو قائم نہیں کیا تو یہ تمھارے خلاف حجت ہو اور تمھاری طرف سے اس نعمت کی ناسپاسی گردانی جائے؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وإنَّه}؛ أي: هذا القرآن الكريم، ذِكْرٌ {لك ولقومِكَ}؛ أي: فخرٌ لكم ومنقبةٌ جليلةٌ ونعمةٌ لا يقادر قدرها ولا يعرف وصفها، ويذكِّرُكم أيضاً ما فيه من الخير الدنيويِّ والأخرويِّ، ويحثُّكم عليه، ويذكِّرُكم الشرَّ ويرهِّبُكم عنه. {وسوف تُسألونَ}: عنه؛ هل قُمتم به فارتفعتُم وانتفعتُم؟ أم لم تقوموا به فيكون حجةً عليكم وكفراً منكم بهذه النعمة؟
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔