اور اگر اللہ چاہتا تو ضرور انھیں ایک امت بنا دیتا اور لیکن وہ اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور جو ظالم ہیں ان کے لیے نہ کوئی دوست ہے اور نہ کوئی مددگار۔
En
اور اگر خدا چاہتا تو ان کو ایک ہی جماعت کردیتا لیکن وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے اور ظالموں کا نہ کوئی یار ہے اور نہ مددگار
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَ ﴾”اور“ بایں ہمہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو بنا دیتا تمام لوگوں کو ﴿اُمَّةًوَّاحِدَةً ﴾”ایک امت “ جو راہ ہدایت پر چلتی کیونکہ وہ قادر مطلق ہے، کسی چیز کو اس کے سامنے دم مارنے کی مجال نہیں مگر اس نے ارادہ کیا کہ وہ اپنی مخلوق کے خاص بندوں میں سے جسے چاہے اپنی رحمت کے سائے میں لے لے۔ رہے ظالم لوگ جن سے کوئی نیکی نہیں ہوتی تو وہ اس کی رحمت سے محروم رہیں گے۔ ﴿مَالَهُمْ﴾”نہیں ہے ان کے لیے۔“ اللہ کے سوا ﴿ مِّنْوَّلِیٍّ ﴾”کوئی کارساز۔“ جو ان کی مدد کر سکے اور اس طرح ان کو اپنا محبوب و مرغوب مقصد حاصل ہو سکے۔ ﴿وَّلَانَصِیْرٍ ﴾”اور نہ کوئی مددگار ہو گا۔“، جو ان سے کسی تکلیف دہ امر کو دور کر سکے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{و} مع هذا فلو شاءَ اللهُ لَجَعَلَ الناس {أمَّةً واحدةً}: على الهدى؛ لأنَّه القادر الذي لا يمتنع عليه شيء، ولكنه أراد أن يُدْخِلَ في رحمتِهِ مَنْ شاء من خواصِّ خلقِهِ، وأمَّا الظالمون الذين لا يَصْلُحون لصالح؛ فإنَّهم محرومون من الرحمة؛ فما لهم من دون الله من وليٍّ يتولاَّهم فيحصِّلُ لهم المحبوب، ولا نصيرٍ يدفعُ عنهم المكروهَ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔