تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تعالیٰ نے صراط مستقیم کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿صِرَاطِاللّٰهِالَّذِیْلَهٗمَافِیالسَّمٰوٰتِوَمَافِیالْاَرْضِ ﴾ یعنی یہ وہ راستہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے مقرر فرمایا اور انھیں آگاہ کیا کہ یہ راستہ اس کے پاس اور اس کے عزت و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿اَلَاۤاِلَىاللّٰهِتَصِیْرُالْاُمُوْرُ ﴾ یعنی تمام اچھے برے معاملات اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹتے ہیں وہ ہر ایک کو اس کے عمل کی جزا دے گا۔ اگر اچھا عمل ہو گا تو اچھی جزا ہو گی اور اگر برا عمل ہو گا تو بری جزا ہو گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم فسَّر الصراط المستقيم، فقال: {صراطِ الله الذي له ما في السمواتِ وما في الأرضِ}؛ أي: الصراط الذي نَصَبَهُ الله لعبادِهِ وأخبرهم أنَّه موصلٌ إليه وإلى دار كرامتِهِ. {ألا إلى الله تصيرُ الأمورُ}؛ أي: ترجِعُ جميع أمورِ الخير والشرِّ، فيجازي كلاًّ بعملِهِ ؛ إنْ خيراً فخيرٌ وإن شرًّا فشرٌّ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔