پھر اگر وہ منہ پھیر لیں تو ہم نے تجھے ان پر کوئی نگران بنا کر نہیں بھیجا، تیرے ذمے پہنچا دینے کے سوا کچھ نہیں اور بے شک ہم، جب ہم انسان کو اپنی طرف سے کوئی رحمت چکھاتے ہیں وہ اس پر خوش ہو جاتا ہے اور اگر انھیں اس کی وجہ سے کوئی مصیبت پہنچتی ہے جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا تو بے شک انسان بہت نا شکرا ہے۔
En
پھر اگر یہ منہ پھیر لیں تو ہم نے تم کو ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا۔ تمہارا کام تو صرف (احکام کا) پہنچا دینا ہے۔ اور جب ہم انسان کو اپنی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو اس سے خوش ہوجاتا ہے۔ اور اگر ان کو ان ہی کے اعمال کے سبب کوئی سختی پہنچتی ہے تو (سب احسانوں کو بھول جاتے ہیں) بےشک انسان بڑا ناشکرا ہے
اگر یہ منھ پھیرلیں تو ہم نے آپ کو ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا، آپ کے ذمہ تو صرف پیغام پہنچا دینا ہے، ہم جب کبھی انسان کو اپنی مہربانی کا مزه چکھاتے ہیں تو وه اس پر اترا جاتا ہے اور اگر انہیں ان کے اعمال کی وجہ سے کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو بےشک انسان بڑا ہی ناشکرا ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿فَاِنْاَعْرَضُوْا ﴾ بیان کامل کے بعد اگر یہ لوگ اس چیز سے منہ موڑیں جو آپ نے پیش کی۔ ﴿فَمَاۤاَرْسَلْنٰكَعَلَیْهِمْحَفِیْظًا ﴾”تو ہم نے آپ کو ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا۔“ کہ آپ ان کے اعمال کی نگرانی کریں اور آپ سے ان کے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے۔ ﴿اِنْعَلَیْكَاِلَّاالْ٘بَلٰ٘غُ٘﴾”آپ کے ذمے صرف (احکام) پہنچا دینا ہے۔“ جب آپ نے اپنی ذمہ داری کو پورا کر دیا تو اللہ تعالیٰ پر آپ کا اجر واجب ٹھہرا، خواہ وہ آپ کی دعوت کو قبول کریں یا روگردانی کریں، ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہے جس نے ان کے چھوٹے بڑے اور ظاہری، باطنی اعمال کو محفوظ کر رکھا ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کی حالت بیان کی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اسے اپنی رحمت کا مزا چکھاتا ہے یعنی اسے جسمانی صحت، رزق کی فراوانی اور عزت و جاہ عطا کرتا ہے۔ تو ﴿فَرِحَبِهَا ﴾”وہ اس سے خوش ہوجاتا ہے۔“ یعنی وہ اس طرح خوش ہوتا ہے کہ اس کی خوشی انھی چیزوں پر مرتکز ہو کر رہ جاتی ہے، اس سے آگے نہیں بڑھتی۔ اس کے اس رویے سے، ان چیزوں پر اس کی طمانیت اور منعم حقیقی سے روگردانی لازم آتی ہے۔ ﴿وَاِنْتُصِبْهُمْسَیِّئَةٌۢ﴾” اگر انھیں کوئی برائی پہنچتی ہے۔“ یعنی کوئی مرض یا فقر وغیرہ لاحق ہوتا ہے ﴿بِمَاقَدَّمَتْاَیْدِیْهِمْفَاِنَّالْاِنْسَانَكَفُوْرٌ ﴾”ان اعمال کے سبب جو انھوں نے کیے، تو انسان بہت ہی ناشکرا ہے۔“ یعنی اس کی فطرت میں سابقہ نعمت کی ناشکری اور اسے جو تکلیف پہنچتی ہے، اس پر اللہ تعالیٰ سے ناراضی رچی بسی ہوئی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فإنْ أعْرَضوا}: عمَّا جئتُم به بعد البيانِ التامِّ {فما أرسلناكَ عليهم حفيظاً}: تحفظُ أعمالَهم وتسألُ عنها، {إنْ عليكَ إلاَّ البلاغُ}: فإذا أديتَ ما عليك؛ فقد وجب أجرُكَ على الله، سواء استجابوا أم أعرضوا، وحسابُهم على الله الذي يحفظُ عليهم صغير أعمالِهم وكبيرَها وظاهرَها وباطنها. ثم ذكر تعالى حالةَ الإنسان، وأنَّه إذا أذاقه الله رحمةً من صحَّةِ بدنٍ ورزقٍ رغدٍ وجاه ونحوه؛ {فرِحَ بها}؛ أي: فرح فرحاً مقصوراً عليها لا يتعدَّاها، ويلزم من ذلك طمأنينته بها وإعراضه عن المنعم. {وإن تُصِبْهم سيئةٌ}؛ أي: مرضٌ أو فقرٌ أو نحوهما {بما قدَّمتْ أيديهم فإنَّ الإنسانَ كفورٌ}؛ أي: طبيعته كفرانُ النعمة السابقة والتسخُّط لما أصابه من السيِّئةِ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔