تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الشوريٰ (42) — آیت 36

فَمَاۤ اُوۡتِیۡتُمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ فَمَتَاعُ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۚ وَ مَا عِنۡدَ اللّٰہِ خَیۡرٌ وَّ اَبۡقٰی لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَلٰی رَبِّہِمۡ یَتَوَکَّلُوۡنَ ﴿ۚ۳۶﴾
پس تمھیںجو بھی چیز دی گئی ہے وہ دنیا کی زندگی کا معمولی سامان ہے اور جو اللہ کے پاس ہے وہ بہتر اور زیادہ باقی رہنے والا ہے، ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے اور صرف اپنے رب پر بھروسا کرتے ہیں۔ En
(لوگو) جو (مال ومتاع) تم کو دیا گیا ہے وہ دنیا کی زندگی کا (ناپائدار) فائدہ ہے۔ اور جو کچھ خدا کے ہاں ہے وہ بہتر اور قائم رہنے والا ہے (یعنی) ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائے اور اپنے پروردگار پر بھروسا رکھتے ہیں
En
تو تمہیں جو کچھ دیا گیا ہے وه زندگانی دنیا کا کچھ یونہی سا اسباب ہے، اور اللہ کے پاس جو ہے وه اس سے بدرجہ بہتر اور پائیدار ہے، وه ان کے لیے ہے جو ایمان ﻻئے اور صرف اپنے رب ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس آیت کریمہ میں دنیا کو ترک کرنے اور آخرت کو اختیارکرنے کی ترغیب اور ان اعمال کا ذکر ہے جو آخرت کی منزل تک پہنچاتے ہیں، چنانچہ فرمایا: ﴿فَمَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ پس جو کچھ تمھیں دیا گیا ہے۔ یعنی اقتدار، ریاست، سرداری، مال، بیٹے اور بدنی صحت و عافیت وغیرہ۔ ﴿فَمَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا پس دنیا کی زندگی کا فائدہ ہے۔ یعنی منقطع ہونے والی لذت ہے۔ ﴿وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ اور جو اللہ کے پاس ہے۔ بے پایاں ثواب، جلیل القدر اور دائمی نعمتوں میں سے وہ﴿خَیْرٌ لذات دنیا سے بہتر ہے، اخروی نعمتوں اور دنیا کی لذتوں کے مابین کوئی نسبت ہی نہیں۔ ﴿وَّاَبْقٰى اور زیادہ پائدار ہیں۔ کیونکہ یہ ایسی نعمتیں ہیں کہ ان میں کوئی تکدر ہے نہ یہ ختم ہونے والی ہیں اور نہ یہ کہیں اور منتقل ہوں گی۔
پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر فرمایا جن کو اس ثواب سے بہرہ مند کیا جائے گا، چنانچہ فرمایا:﴿لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَؔكَّلُوْنَ یعنی جنھوں نے ایمان صحیح، جو ظاہری اور باطنی ایمان کے اعمال کو مستلزم ہے اور توکل کو جمع کر لیا ہے جو ہر عمل کا آلہ ہے پس ہر عمل جس کی مصاحبت میں توکل نہ ہو، غیرمکمل ہے۔ اور جس چیز کو بندہ پسند کرتا ہے اسے حاصل کرنے اور جسے ناپسند کرتا ہے اسے دور کرنے میں قلب کے اللہ تعالیٰ پر پورے وثوق کے ساتھ بھروسہ کرنے کا نام توکل ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

هذا تزهيدٌ في الدُّنيا وترغيبٌ في الآخرة وذكرُ الأعمال الموصلةِ إليها؛ فقال: {فما أوتيتم من شيءٍ}: من ملكٍ ورياسةٍ وأموال وبنينَ وصحَّةٍ وعافيةٍ بدنيَّةٍ، {فمتاعُ الحياةِ الدُّنيا}: لذَّةٌ منغصةٌ منقطعةٌ، {وما عندَ اللهِ}: من الثواب الجزيل والأجر الجليل والنعيم المقيم {خيرٌ} من لَذَّات الدُّنيا، خيريَّة لا نسبةَ بينهما {وأبقى}: لأنَّه نعيمٌ لا منغِّص فيه ولا كَدَرَ ولا انتقالَ.

ثم ذكر لمن هذا الثواب، فقال: {للذين آمنوا وعلى ربِّهم يتوكَّلونَ}؛ أي: جمعوا بين الإيمان الصحيح المستلزم لأعمال الإيمان الظاهرة والباطنة، وبين التوكُّل الذي هو الآلةُ لكلِّ عمل؛ فكلُّ عمل لا يَصْحَبُه التوكُّل؛ فغير تامٍّ، وهو الاعتماد بالقلب على الله في جَلْب ما يحبُّه العبد ودَفْع ما يكرهُهُ مع الثِّقة به تعالى.