تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ فصلت/حم السجده (41) — آیت 4

بَشِیۡرًا وَّ نَذِیۡرًا ۚ فَاَعۡرَضَ اَکۡثَرُہُمۡ فَہُمۡ لَا یَسۡمَعُوۡنَ ﴿۴﴾
بشارت دینے والا اور ڈرانے والا، تو ان کے اکثر نے منہ موڑ لیا، سو وہ نہیں سنتے۔ En
جو بشارت بھی سناتا ہے اور خوف بھی دلاتا ہے لیکن ان میں سے اکثروں نے منہ پھیر لیا اور وہ سنتے ہی نہیں
En
خوش خبری سنانے واﻻ اور ڈرانے واﻻ ہے، پھر بھی ان کی اکثریت نے منھ پھیر لیا اور وه سنتے ہی نہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿بَشِیْرًا وَّنَذِیْرًا یعنی دنیاوی اور اخروی ثواب کی خوشخبری سنانے والا اور دنیاوی اور اخروی عذاب سے ڈرانے والا، پھر تبشیر و انذار کی تفصیل کا ذکر کیا اور ان اسباب و اوصاف کا ذکر کیا جن کے ذریعے سے تبشیر و انذار حاصل ہوتے ہیں۔ یہ اس کتاب کے وہ اوصاف ہیں جو اس بات کے موجب ہیں کہ اسے قبول کیا جائے، اس کے سامنے سراطاعت خم کیا جائے، اس پر ایمان لایا جائے اور اس پر عمل کیا جائے۔ مگر اکثر لوگوں نے اس طرح روگردانی کی ہے جس طرح متکبرین کا وتیرہ ہے۔ ﴿فَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ اور وہ اسے قبول کرنے کے ارادے سے نہیں سنتے اگرچہ وہ اسے اس طرح ضرور سنتے ہیں جس سے ان پر شرعی حجت قائم ہو جائے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{بشيراً ونذيراً}؛ أي: بشيراً بالثواب العاجل والآجل، ونذيراً بالعقاب العاجل والآجل، وذكر تفصيلَهما، وذكر الأسبابَ والأوصاف التي تحصل بها البشارةُ والنذارةُ، وهذه الأوصاف للكتاب مما يوجب أن يُتَلَقَّى بالقَبول والإذعان والإيمان والعمل به، ولكن أعرض أكثر الخلق عنه إعراض المستكبرين، {فهم لا يسمعون}: له سماع قبول وإجابةٍ، وإن كانوا قد سمِعوه سماعاً تقوُم عليهم به الحجَّة الشرعيَّة.