پھر اگر وہ تکبر کریں تو وہ (فرشتے) جو تیرے رب کے پاس ہیں وہ رات اور دن اس کی تسبیح کرتے ہیں اور وہ نہیں اکتاتے۔
En
اگر یہ لوگ سرکشی کریں تو (خدا کو بھی ان کی پروا نہیں) جو (فرشتے) تمہارے پروردگار کے پاس ہیں وہ رات دن اس کی تسبیح کرتے رہتے ہیں اور (کبھی) تھکتے ہی نہیں
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿فَاِنِاسْتَكْبَرُوْا ﴾ اگر وہ تکبرو استکبار کی بنا پر اللہ تعالیٰ کی عبادت نہ کریں اور اللہ تعالیٰ کی آیات و براہین کے سامنے سرتسلیم خم نہ کریں تو وہ اللہ تعالیٰ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے، اللہ ان سے بے نیاز ہے۔ اللہ تعالیٰ کے کچھ مکرم بندے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو جو حکم دیتا ہے وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے اور ان کو جو حکم دیا جاتا ہے وہ اس کی تعمیل کرتے ہیں۔ اس لیے فرمایا: ﴿فَالَّذِیْنَعِنْدَرَبِّكَ ﴾”پس جو تیرے رب کے پاس ہیں“ یعنی مقرب فرشتے ﴿یُسَبِّحُوْنَلَهٗبِالَّیْلِوَالنَّهَارِوَهُمْلَایَسْـَٔمُوْنَ﴾”وہ دن رات اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور وہ تھکتے نہیں۔“ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت سے اکتاتے نہیں، کیونکہ وہ نہایت طاقتور ہوتے ہیں۔ ان کے اندر عبادت کا داعیہ بھی نہایت قوی ہوتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فإن استكْبَروا}: عن عبادة الله تعالى، ولم ينقادوا لها؛ فإنَّهم لن يضرُّوا الله شيئاً، والله غنيٌّ عنهم، وله عبادٌ مكرمون، لا يعصون الله ما أمرهم ويفعلون ما يؤمرونَ، ولهذا قال: {فالذين عند ربِّكَ}؛ يعني: الملائكة المقرَّبين، {يسبِّحون له بالليل والنهارِ وهم لا يسأمونَ}؛ أي: لا يملُّون من عبادته؛ لقوَّتهم وشدَّة الداعي القويِّ منهم إلى ذلك.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔