ہم تمھارے دوست ہیں دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں بھی اور تمھارے لیے اس میں وہ کچھ ہے جو تمھارے دل چاہیں گے اور تمھارے لیے اس میں وہ کچھ ہے جو تم مانگو گے۔
En
ہم دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے دوست تھے اور آخرت میں بھی (تمہارے رفیق ہیں) ۔ اور وہاں جس (نعمت) کو تمہارا جی چاہے گا تم کو (ملے گی) اور جو چیز طلب کرو گے تمہارے لئے (موجود ہوگی)
تمہاری دنیوی زندگی میں بھی ہم تمہارے رفیق تھے اور آخرت میں بھی رہیں گے، جس چیز کو تمہارا جی چاہے اور جو کچھ تم مانگو سب تمہارے لیے (جنت میں موجود﴾ ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
وہ ثابت قدمی کے لیے ان کی ہمت بڑھاتے اور ان کو خوشخبری دیتے ہوئے یہ بھی کہیں گے: ﴿نَحْنُاَوْلِیٰٓؤُكُمْفِیالْحَیٰوةِالدُّنْیَاوَفِیالْاٰخِرَةِ ﴾”ہم تمھارے دوست ہیں دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں۔“ وہ دنیا کے اندر انھیں بھلائی کی ترغیب دیتے ہیں اور بھلائی کو ان کے سامنے مزین کرتے ہیں۔ وہ ان کو برائی سے ڈراتے ہیں اور ان کے دلوں میں برائی کو قبیح بنا کر پیش کرتے ہیں۔ ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتے ہیں اور مصائب اور مقاماتِ خوف میں ان کو ثابت قدم رکھتے ہیں۔ خاص طور پر موت کی سختیوں، قبر کی تاریکیوں، قیامت کے روز پل صراط کے ہولناک منظر کے وقت ان کی ہمت بڑھاتے ہیں اور جنت کے اندر ان کے رب کی طرف سے عطا کردہ اکرام و تکریم پر انھیں مبارک باد دیتے اور ہر دروازے میں سے داخل ہوتے ہوئے ان سے کہیں گے: ﴿سَلٰ٘مٌعَلَیْكُمْبِمَاصَبَرْتُمْفَنِعْمَعُقْبَىالدَّارِ﴾ (الرعد: 13؍24) ”تم پر سلامتی ہے، دنیا میں تمھارے صبر کے سبب سے، کیا ہی اچھا ہے آخرت کا گھر!“
نیز وہ ان سے یہ بھی کہیں گے: ﴿وَلَكُمْفِیْهَا ﴾”اور اس میں تمھارے لیے“ یعنی جنت کے اندر ﴿ مَاتَشْتَهِيْۤاَنْفُسُكُمْ ﴾”جو چیز تمھارے نفس چاہیں گے“ وہ تیار اور مہیا ہو گی۔ ﴿وَلَكُمْفِیْهَامَاتَدَّعُوْنَ﴾”اور تمھارے لیے ہوگا جو کچھ تم طلب کرو گے“ یعنی لذات و شہوات میں سے جس چیز کا تم ارادہ کرو گے تمھیں حاصل ہو گی۔ ان لذات کو کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی بشر کے قلب میں اس کا خیال گزرا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ويقولون لهم أيضاً مثبِّتين لهم ومبشِّرين: {نحنُ أولياؤكم في الحياة الدُّنيا وفي الآخرِة}: يحثُّونهم في الدنيا على الخيرِ ويُزَيِّنونه لهم، ويرهِّبونهم عن الشرِّ ويقبِّحونه في قلوبهم، ويَدْعون الله لهم، ويثبِّتونهم عند المصائبِ والمخاوف، وخصوصاً عند الموت وشدَّته والقبر وظلمته وفي القيامة وأهوالِها، وعلى الصراط وفي الجنَّة؛ يهنُّونهم بكرامة ربِّهم، ويدخُلون عليهم من كلِّ باب، سلامٌ عليكم بما صبرتُم فنعم عُقبى الدار، ويقولون لهم أيضاً: {ولكم فيها}؛ أي: في الجنة، {ما تشتهي أنفسُكم}: قد أُعِدَّ وهُيِّئ، {ولكم فيها ما تَدَّعون}؛ أي: تطلبون من كلِّ ما تتعلَّق به إرادتُكم وتطلُبونه، من أنواع اللَّذَّات والمشتهيات، مما لا عينٌ رأت ولا أذنٌ سمعت ولا خطرَ على قلب بشر.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔