تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ فصلت/حم السجده (41) — آیت 23

وَ ذٰلِکُمۡ ظَنُّکُمُ الَّذِیۡ ظَنَنۡتُمۡ بِرَبِّکُمۡ اَرۡدٰىکُمۡ فَاَصۡبَحۡتُمۡ مِّنَ الۡخٰسِرِیۡنَ ﴿۲۳﴾
اور یہ تمھارا گمان تھا جو تم نے اپنے رب کے بارے میں کیا، اسی نے تمھیں ہلاک کر دیا، سو تم خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہو گئے۔ En
اور اسی خیال نے جو تم اپنے پروردگار کے بارے میں رکھتے تھے تم کو ہلاک کر دیا اور تم خسارہ پانے والوں میں ہو گئے۔
En
تمہاری اسی بدگمانی نےجو تم نے اپنے رب سے کر رکھی تھی تمہیں ہلاک کر دیا اور بالﺂخر تم زیاں کاروں میں ہو گئے۔ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

ان کا یہ گمان ان کی ہلاکت اور بدبختی کا سبب بنا۔ اس لیے فرمایا: ﴿وَذٰلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِیْ ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ تمھارا یہی گمان جو تم نے اپنے رب کے متعلق کر رکھا تھا یعنی تم نے اپنے رب کے بارے میں برا گمان کیا جو اس کے جلال کے لائق نہ تھا۔ ﴿اَرْدٰىكُمْ وہی تمھیں لے ڈوبا۔ یعنی اس نے تمھیں ہلاک کر دیا۔ ﴿فَاَصْبَحْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ لہٰذا تم خسارہ پانے والوں میں ہوگئے۔ تم نے اپنے اعمال کے سبب سے، جن کا موجب اپنے رب کے بارے میں تمھارا براگمان تھا، اپنے آپ کو، اپنے گھر والوں اور اپنے دین کو خسارے میں ڈالا۔ بنابریں تم عذاب اور بدبختی کے مستحق ٹھہرے اور تمھارے لیے عذاب جہنم میں دائمی خلود واجب ہوا، یہ عذاب ایک گھڑی کے لیے بھی تم سے علیحدہ نہ ہو گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وهذا الظنُّ صار سبب هلاكهم وشقائهم، ولهذا قال: {وذلكم ظنُّكم الذي ظَنَنتُم بربِّكم}: الظنَّ السيِّئَ؛ حيث ظننتُم به ما لا يليقُ بجلاله، {أرداكم}؛ أي: أهلككم، {فأصبحتُم من الخاسرين}: لأنفسهم وأهليهم وأديانهم؛ بسبب الأعمال التي أوجَبَها لكم ظنُّكم القبيح بربِّكم. فحقَّتْ عليكم كلمةُ العقاب والشقاءِ، ووجب عليكم الخلودُ الدائم في العذاب، الذي لا يُفَتَّر عنهم ساعة.